1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

برلن ميں مسلمانوں کی تابوت کے بجائے کفن ميں تدفين زير غور

جرمنی ميں تابوت ميں دفنانے کی شرط اور قبرستان سے متعلق اسی قسم کے کئی دوسرے ضوابط کی وجہ سے بہت سے مسلمان اپنے عزيزوں کی ميت دفن کے لئے اپنے آبائی ممالک لے جاتے ہيں۔

default

برلن مي مسلمانوں کا قبرستان

اب برلن ميں ميں مسلمانوں کو تابوت کے بجائے صرف کفن ميں دفنانے کی اجازت دينے پر غور کيا جارہا ہے۔

اگلے سال کے شروع ميں زيرغور نئے قانون کے نافذ ہونے کے بعد جرمن دارالحکومت برلن کے دو قبرستانوں کے مخصوص حصوں ميں مسلمان اپنے مُردوں کو تابوت ميں رکھنے کے بجائے صرف کفن ميں دفن کر سکيں گے۔ برلن کے ان قبرستانوں میں مسلمانوں کے لئے مخصوص ان حصوں ميں اب بھی مسلمانوں کے دفنانے کا انتظام ہے ليکن ابھی تک يہ پابندی ہے کہ مردے کو صرف تابوت ہی ميں بند کر کے دفن کيا جائے۔

Haci Bayram Moschee in Berlin

برلن ميں ايک مسجد

اندازہ ہے کہ سن 2008 ء ميں برلن ميں تقريباً 500 سے 600 کے درميان مسلمانوں کی اموات ہوئيں، جن ميں سے 70 فيصد کی نعشوں کو تدفين کے لئے ان کے آبائی ممالک بھيجا گيا۔ ان ميں ترک مسلمانوں کی تعداد سب سے زيادہ تھی تاہم برلن ميں مقيم ايسے مسلمانوں کی تعداد بڑھتی جارہی ہے، جوبرلن ميں رہنے والے اپنے بچوں، پوتے پوتيوں اور نواسے نواسيوں کے نزديک ہی دفن ہونا پسند کرتے ہيں۔

برلن، ہيمبرگ، لوئر سيکسنی اور زارلينڈ جيسے صوبوں کی تقليد کرتے ہوئے اپنے يہاں بھی مسلمانوں کے لئے بھی تابوت ميں تدفين کی شرط کو ختم کردينا چاہتا ہے۔ برلن کی سماجی امورکی سينيٹر کارولا بلوم نے کہا کہ تابوت کی پابندی کا خاتمہ کرتے ہوئے ايک دوسرے کو تسليم کرنے کی سمت ميں بھی ايک قدم اٹھايا گيا ہے۔ انہوں نے کہا،’’جب کوئی نيا ضابطہ رائج ہوتا ہے تو کچھ خوف بھی پيدا ہوتا ہے ليکن دفنانے والی کمپنيوں کو ہيمبرگ کی مثال سامنے رکھنا چاہئيے جہاں پہلے سے ہی مسلمانوں کو تابوت کے بغير دفنايا جارہا ہے۔‘‘

Türkischer Friedhof in Berlin-Neukölln

برلن ميں ايک ترک قبرستان

ترک مسلم برادری بھی اس سے مطمئن ہے کہ آئندہ مسلمانوں کو برلن ميں بھی کفن ميں يا تابوت ميں تدفين کے درميان انتخاب کرنے کا موقع حاصل ہوگا۔ برلن کی ترک مسلمانوں کی برادری کے صدر کنعان کولات نے کہا،’’ ميرے خيال ميں رمضان کے مہينے ميں ايک اچھی خبر ہے کہ يہ تجويز منظور کرلی گئی ہے۔ اس سلسلے ميں ہميشہ دوسرے نکات پر بات کی جاتی رہی ہے، مثلاً حفظان صحت وغيرہ ليکن يہ مسائل قابل حل ہيں۔‘‘

بہت سے مسلمان اس لئے بھی اپنے عزيزوں کو اپنے آبائی ممالک ميں دفن کرنا چاہتے ہيں کيونکہ جرمنی کے کئی دوسرے صوبوں کی طرح برلن ميں بھی قبروں کو 20 سال بعد کھود کر برابر کرديا جاتا ہے۔

رپورٹ: شہاب احمد صدیقی

ادارت: عاطف بلوچ

DW.COM