1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

فن و ثقافت

برلن فلم فیسٹیول: انتظار کی گھڑیاں ختم ہونے کو ہیں

برلن فلم فیسٹیول آئندہ ہفتے شروع ہو رہا ہے۔ دس روز تک جاری رہنے والے اس فلمی میلے کے ریڈ کارپٹ پر شوبزنس کی دنیا سے تعلق رکھنی والی بڑی ہستیوں کی آمد متوقع ہے۔

default

جرمن دارالحکومت برلن میں منعقد ہو رہے برلن فلم فیسٹیول کو ’برلینالے‘ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے اور اس مرتبہ یہ اکسٹھواں میلہ ہے، جو دس فروری کو شروع ہو گا جبکہ اس کا آخری دِن 20 فروری ہو گا۔

اس فلمی میلے کے منتظمین کے مطابق فیسٹیول کے مہمانوں کی فہرست میں پاپ اسٹار میڈونا، وینیسا ریڈگریو، جیف بریجز، کیون سیپیسی اور جوش برولن شامل ہیں۔ یہ بات اہم ہے کہ برلن فلم فیسٹیول فلمی صنعت کے بڑے ایوارڈ شو ’آسکر‘ سے قبل منعقد کیا جا رہا ہے۔ آسکر کی تقریب بھی رواں ماہ امریکی شہر لاس اینجلس میں منعقد کی جانے والی ہے۔

توقع ہے کہ آسکر کے لیے نامزد ہونے والے فلمی ستارے بھی برلن فلم فیسٹیول میں شریک ہوں گے، ان میں سے ایک برطانوی اداکار کولن فرتھ ہیں، جنہیں آسکر کے لیے بہترین اداکار کے لیے نامزد کیا گیا ہے۔ ان کی فلم ’دی کنگز سپیچ‘ کو آسکر کے لیے سب سے زیادہ نامزدگیاں حاصل ہوئی ہیں، جبکہ اس فلم کو پروڈیوسرز گلڈ آف امریکہ کی جانب سے بھی بہترین فلم کا ایوارڈ دیا گیا ہے۔

کولن فرتھ کو بہترین اداکار کا گولڈن گلوب ایوارڈ بھی ملا جبکہ آسکر میں بہترین اداکار کے ایوارڈ کے لیے بھی انہیں ہی فیورٹ قرار دیا جا رہا ہے۔

Dieter Kosslik Berlinale

برلن فلم فیسٹیول کے منتظم ڈیٹیر کوسلک

اس فلم میں کولن فرتھ نے کنگ جارج ششم کا کردار نبھایا ہے اور ان کی یہ فلم آسکر میں نامزدگیوں کی دوڑ میں فیس بُک کے موضوع پر بننے والی بلاک بسٹر ’دی سوشل نیٹ ورک‘ کو بھی پیچھے چھوڑگئی ہے۔

جرمنی میں ہونے والے برلینالے فلمی میلے میں 58 ملکوں سے تقریباﹰ چار سو فلمیں نمائش کے لیے پیش کی جائیں گی۔ اس موقع پر سات رکنی جیوری گولڈن بیئر کے اعزاز کے لیے سولہ فلموں میں سے کسی ایک کا انتخاب کرے گی۔ جیوری کی قیادت اداکارہ آئزبیلاروسیلینی کریں گی۔

ایرانی ہدایت کار جعفر پناہی بھی اس جیوری کے ارکان میں سے ہیں، تاہم وہ اس میلے میں شریک نہیں ہو پائیں گے۔ انہیں ایران میں حکومتی نظام کے خلاف کام کرنے کے الزام میں دسمبر میں چھ سال کی قید سنا دی گئی تھی جبکہ انہیں آئندہ بیس برس تک کے لیے فلمیں بنانے سے بھی روک دیا گیا۔ برلن فلم فیسٹیول کی انتظامیہ نے تہران حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ پناہی کو رہا کریں۔

رپورٹ: ندیم گِل/خبررساں ادارے

ادارت: عاطف بلوچ

DW.COM

ویب لنکس