1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

برلن حملہ: ٹرک سے مشتبہ ملزم کی انگلیوں کے نشان دستیاب

جرمن پولیس اِس وقت مختلف جرمن شہروں میں مشتبہ تیونسی باشندے انیس عامری کی گرفتاری کے لیے چھاپے مار رہی ہے۔ حملے میں استعمال ہونے والے ٹرک سے اُس کے انگلیوں کے نشان دستیاب ہونے کی تصدیق کر دی گئی ہے۔

جرمن وزیر داخلہ تھوماس ڈے میزیئر نے کہا ہے کہ جس ٹرک سے برلن کی کرسمس مارکیٹ پر حملہ کیا گیا تھا، اُس کے کیبن میں سے مشتبہ تیونسی باشندے انیس عامری کی انگلیوں کے نشانات دستیاب ہو گئے ہیں۔ ڈے میزیئر کے مطابق ان نشانات سے معلوم ہوتا ہے کہ عامری ہی اِس حملے کا مرکزی ملزم ہو سکتا ہے۔ جرمن وزیر داخلہ نے ان نشانات کو مبینہ حملہ آور کے حوالے سے انتہائی اہم معلومات قرار دیا ہے۔ اُن کے مطابق کچھ اضافی شواہد بھی ملے ہیں لیکن اِن کی تفصیل انہوں نے فراہم نہیں کی۔

آج پولیس نے ایک جنوبی جرمن شہر ہائل برون کے بس اسٹینڈ پر کھڑی ایک بس کی بھی تلاشی لی۔ مقامی اخبار کے مطابق بظاہر یہ چھاپہ بھی مشتبہ تیونسی باشندے کی گرفتاری کے سلسلے میں تھا۔  ہائل برون کی بس میں سے بھی عامری کی گرفتاری ممکن نہیں ہو سکی۔ پیر کے روز کیے گئے حملے میں ایک درجن انسان مارے گئے تھے۔ اس حملے کی ذمہ داری جہادی تنظیم ’اسلامک اسٹیٹ‘ نے قبول کی تھی۔

Berlin PK zu LKW Anschlag Merkel, Maas, de Maiziere (Reuters/H. Hanschke)

جرمن وزیر داخلہ کے ہمراہ چانسلر میرکل بھی پریس بریفنگ کے وقت موجود تھیں

جرمن دارالحکومت برلن میں واقع فیڈرل پولیس دفتر میں وزیر داخلہ کی پریس بریفنگ کے وقت چانسلر انگیلا میرکل بھی ان کے ہمراہ موجود تھیں۔ انہوں نے بھی اس موقع پر اس امید کا اظہار کیا کہ مبینہ حملہ آور کو جلد از جلد گرفتار کر لیا جائے گا۔

جرمنی کے ساتھ ساتھ یورپ بھر میں برلن حملے کے مبینہ ملزم چوبیس سالہ انیس عامری کی تلاش زور و شور سے جاری ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ تیونس کے شہری عامری کی دستاویزات حملے میں استعمال ہونے والے ٹرک  سے برآمد ہوئی تھیں۔ بتایا گیا ہے کہ عامری اس سے قبل چار سال اٹلی کی ایک جیل میں بھی گزار چکا ہے۔ تاہم اس دوران حکام کو اسے ملک بدر کرنے میں مشکلات کا سامنا رہا ہے۔ اس دوران پولیس نے جرمن شہر ایمرش میں پناہ گزینوں کے ایک مرکز پر چھاپہ بھی مارا۔ اس چھاپے کے حوالے سے تفصیلات سے آگاہ نہیں کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ برلن میں بھی کئی چھاپے مارے جا چکے ہیں ، جن میں کسی کے گرفتاری کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔