1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

برلن حملہ: حقائق سامنے آنے کا امکان

برلن کی کرسمس مارکیٹ پر حملے میں استعمال ہونے والے ٹرک کے حصول میں کس نے مدد کی؟ حملے کی منصوبہ بندی کس طرح کی گئی؟ اور اس میں کون کون شامل تھا؟ جی ہاں اب شاید ان سوالات کے جوابات سامنے آئیں۔

جرمن حکام نے بتایا ہے کہ برلن کی کرسمس مارکیٹ پر حملے کے تناظر میں تحقیقات آگے بڑھ رہی ہیں اور آج بدھ کو جس شخص کو حراست میں لیا  گیا ہے، وہ کئی رازوں پر سے پردہ اٹھا سکتا ہے۔ جرمن پولیس کا دعوٰی ہے کہ عارضی طور پر جس شخص کو حراست میں لیا گیا ہے وہ ممکنہ طور پر کرسمس مارکیٹ کے حملہ آور کا ایک سہولت کار ہو سکتا ہے۔ دفتر استغاثہ نے بتایا کہ حراست میں لیے جانے والے شخص کی عمر چالیس برس ہے اور اس کا تعلق بھی تیونس سے ہے۔

بتایا گیا ہے کہ مبینہ حملہ آور انیس عامری کے ٹیلیفون میں اس شخص کا نمبر موجود تھا۔ اس بیان میں مزید کہا گیا،’’ابتدائی تفتیش سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ یہ شخص اس حملے میں ملوث ہو سکتا ہے۔‘‘ حکام نے بتایا کہ جمعرات کے روز اس امر پر غور کیا جائے گا کہ آیا اس شخص کی گرفتاری کے وارنٹ کے حصول کے لیے درخواست دی بھی جائے یا نہیں۔

Berlin Breitscheidplatz Wiedereröffnung Weihnachtsmarkt

انیس دسمبر کو اس واقعے میں بارہ افراد ہلاک اور پچاس سے زائد زخمی ہو گئے تھے

 دوسری جانب پولیس نے برلن کے علاقے ٹیمپل ہوف میں مارے جانے والے چھاپوں کے دوران مختلف مکانات اور دکانوں کی تلاشی لی ہے۔ کرسمس مارکیٹ کے مبینہ حملہ آور انیس عامری کا تعلق بھی تیونس سے ہی تھا۔ انیس دسمبر کو اس واقعے میں بارہ افراد ہلاک اور پچاس سے زائد زخمی ہو گئے تھے۔ اس واقعے کے چار روز بعد چوبیس سالہ عامری اطالوی پولیس کے ساتھ ایک مقابلے میں مائی لینڈ شہر میں مارا گیا تھا۔

ساتھ ہی اس بارے میں بھی تحقیقات جاری ہیں کہ انیس عامری کس راستے سے جرمنی سے اٹلی پہنچا۔ بتایا گیا ہے کہ اسے تورین شہر میں نصب ایک کیمرے میں بھی دیکھا گیا ہے۔ تاہم بہت سے حلقوں کا خیال ہے کہ وہ ہالینڈ سے بھی گزرا ہے۔ تاہم انیس عامری کے فرار کے راستے اور کرسمس مارکیٹ پر حملے کے حوالے سے ابھی بھی کئی سوالات جواب طلب ہیں۔