1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

برلن حملوں کے بعد جرمنی میں سکیورٹی نظام میں وسیع تبدیلیاں

جرمن چانسلر انگیلا میرکل نے ملک میں سکیورٹی نظام میں وسیع تبدیلیوں کو اعلان کیا ہے۔ برلن حملوں کے بعد جرمنی میں سکیورٹی ہائی الرٹ ہے۔

جرمن حملوں کا مشتبہ ملزم اور ملک میں بہ طور مہاجر داخل ہونے والا انیس عامری ملکی سکیورٹی اداروں کے نظر میں ہونے کے باوجود کس طرح انہیں چکمہ دے کر یہ حملے کرنے اور پھر بچ نکلنے میں کامیاب ہوا؟ یہ مشتبہ حملہ آور گو کہ گزشتہ روز اطالوی شہر میلان کے قریب ایک پولیس مقابلے میں مارا گیا ہے، تاہم جرمنی میں یہ سوال حکومت اور سکیورٹی اداروں کے لیے درد سر بنا ہوا ہے۔

چانسلر انگیلا میرکل نے جمعے کے روز ہدایات جاری کی ہیں کہ ملک کے سکیورٹی ڈھانچے پر نظرثانی کی جائے۔ میرکل حکومت اور برلن پولیس کو کرسمس مارکیٹ پر ٹرک حملے اور وہاں 12 افراد کی ہلاکت کے تناظر میں شدید تنقید کا سامنا ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ اس حملے میں ملوث مشتبہ ملزم باآسانی جائے واردات سے پیدل فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا تھا۔

24 سالہ تیونسی نژاد انیس عامری کو برلن حملے کے چار روز بعد میلان میں پولیس کے ساتھ ایک جھڑپ میں ہلاک کر دیا گیا، تام جرمن حکام شدید عوامی تنقید کا شکار ہیں کہ ایک ایسا ملزم جو چھ ماہ تک سکیورٹی اداروں کی نگاہ میں تھا، وہ جہادیوں کے ساتھ رابطوں کے باوجود کس طرح یہ واردات کرنے میں کامیاب ہوا؟

Deutschland Identitäre Bewegung protestiert in Berlin (Reuters/A. Schmidt)

جرمنی میں سکیورٹی ہائی الرٹ ہے

جرمن کریمنل تفتیش کاروں کی تنظیم کی برلن شاخ کے صدر میشائل بؤہل کے مطابق، ’’وہ اس نیٹ سے کیسے بچ نکلا؟ عامری کا معاملہ کئی طرح کے سوال اٹھا رہا ہے۔ کیوں کہ یہ سوالات صرف اس واقعے سے ہی جڑے نہیں بلکہ اس سے پہلے کے وقت سے بھی جڑے ہیں، کیوں کہ وہ گزشتہ برس جولائی میں جرمنی میں داخل ہوا تھا اور اس نے یہاں سیاسی پناہ کی درخواست دائر کی تھی۔‘‘

جرمنی پہنچنے سے قبل عامری کو اٹلی میں دنگا فساد اور دیگر جرائم کے تحت چار برس کی سزا سنائی گئی تھی اور سزا کے خاتمے کے بعد تیونس حکومت کی جانب سے سفری دستاویزات مہیا نہ کیے جانے پر اسے کہا گیا تھا کہ وہ ملک سے نکل جائے، جس کے بعد وہ اٹلی سے جرمنی میں داخل ہوا اور یہاں سیاسی پناہ کی درخواست دائر کر دی۔

چانسلر میرکل کا کہنا ہے کہ اس بات کا باریکی سے جائزہ لیا جائے گا کہ سیکورٹی نظام میں کہاں کہاں تبدیلیوں کی ضرورت ہے۔ انہوں نے بتایا کہ انہوں نے تیونس کے صدر باجی قائد السبسی سے بھی بات چیت کی ہے، جس میں سیاسی پناہ کے ناکام تیونسی شہریوں کی جلد وطن واپسی کے موضوع پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

جرمنی میں رواں برس جون میں عامی کی سیاسی پناہ کی درخواست مسترد ہو گئی تھی، تاہم اس کی تیونسی شہریت کی تصدیق میں کئی ماہ کا عرصہ لگ گیا، جب کہ اس دوران اسے جرمنی میں رہنے کی اجازت تھی۔