1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

سائنس اور ماحول

برلن: توانائی کی ضروریات پر تبادلہء خیال

برلن میں جاری ایشیا پیسیفک ویکس دو ہزار نو کے دوسرے دن آج بزنس اور سائنس سیشن کا آغاز ہوا۔ اس سیشن کی پہلی کانفرنس کے مہمان خصوصی، جرمن وزیر برائے ٹرانسپورٹ و دیہی ترقی وولفگانگ ٹیفنزے تھے۔

default

’’گلوبل موبیلیٹی اور مستقبل کے لئے توانائی‘‘ کے نام سے ہونے والی اس کانفرنس میں مستقبل میں توانائی کی ضروریات کے حوالے سے اہم نکات پر بات کی گئی۔ جرمن وزیر ٹیفنزے نے کہا کہ انہی شہروں کا مستقبل تابناک ہو گا، جہاں تحفظ ماحول کو نظر میں رکھتے ہوئے آزادانہ نقل و حمل کے مواقع ہوں گے:’’توانائی کے استعمال میں کمی کرنا انتہائی اہم ہے، وہ توانائی جو ہم استعمال کرتےہیں۔ ہمیں قابل تجدید ذرائع سے حاصل ہونے والی توانائی کا استعمال بڑھانا ہو گا۔‘‘

Klaus Wowereit auf der Eröffnung der Asien PazifikWochen

اس اجلاس میں دنیا کے مختلف ملکوں کے ماہرین شرکت کر رہے ہیں۔ دنیا گلوبل ولیج میں تبدیل ہوگیا ہے اور وقت کے ساتھ ساتھ فاصلے کم ہوتے جاتے رہے ہیں- موبیلیٹی کے لئے توانائی کی ضرورت ہوتی ہے تاہم ہوائی جہازوں، ریل گاڑیوں اور موٹر کاروں میں ایندھن کے استعمال سے ماحولیات پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

ٹیفنزے نے مزید بتایا کہ اس سلسلے میں جرمنی نے ایک نیا منصوبہ تیار کیا ہے، جس سے توانائی کے استعمال کو بیس فیصد تک کم کیا جا سکے گا۔ ساتھ ہی کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج میں بھی بیس فیصد تک کی کمی کی جائے گی۔ اِس کے علاوہ قابل تجدید توانائی کے استعمال میں بیس فی صد اضافہ ہوگا۔ آخر کس طرح ؟ ٹیفنزے کہتے ہیں:’’ ہمیں ٹرانسپورٹ کے شعبے میں منصوبہ بندی اور دیگر اقدامات اٹھاتے وقت تحفظ ماحول کو سب سے زیادہ اہمیت دینی ہو گی۔’’

وفاقی جرمن وزیر برائے ٹرانسپورٹ و دیہی ترقی نے بتایا کہ جرمنی میں قومی سطح پر پیٹرول مصنوعات کے استعمال سے متعلق سن دو ہزار چھ سے ہی ایک پلان پر عمل درآمد ہو رہا ہے۔ ساتھ ہی کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج میں کمی کرنے کے لئے تین ہوائی اڈوں پر بھی کام ہو رہا ہے، جن میں فرینکفرٹ، میونخ اور کولون شامل ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ بیٹری سے چلنے والی گاڑیاں ہی مستقبل ہیں اور اس سلسلے میں سب کو مشترکہ طور پر اقدامات کرنا ہوں گے، تبھی ’’گلوبل موبیلیٹی اور مستقبل کے لئے توانائی‘‘ کے سلسلے میں انقلابی تبدیلیاں سامنے آسکیں گی۔

برلن کے ٹاون ہال میں جاری اس اجلاس میں جرمن ماہرین ایشیا کے پارٹنرز کے ساتھ موبیلیٹی اور توانائی کے سلسلے میں باہمی تعاون اور شراکت پر بات کر رہے ہیں۔ اِس سوال پر غور کیا جا رہا ہے کہ جرمنی اور ایشیائی ممالک کس طرح ایک دوسرے کے ساتھ مل کر توانائی کی ضروریات کو پورا کریں اور ساتھ ہی اس بات کو بھی یقینی بنائیں کہ ماحول پر مضر اثرات بھی مرتب نہ ہوں۔

رپورٹ: گوہر نذیرگیلانی، برلن

ادارت: امجدعلی