1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

برلسکونی کے اعلان سے یورو کرنسی کی قدر میں بہتری

اطالوی وزیر اعظم سلویو برلسکونی کی جانب سے مستعفی ہوجانے کے اعلان سے عالمی سطح پر بازار حصص اور یورو کرنسی پر مثبت اثرات نمودار ہونا شروع ہوگئے ہیں۔

default

امید کی جا رہی ہے کہ یورپ کی اس تیسری سب سے بڑی معیشت میں نئی حکومت قرض کے بڑھتے ہوئے بحران پر زیادہ بہتر اور مؤثر انداز میں قابو پاسکے گی، جو یورو زون میں قرض کے بحران کو پھیلنے سے روکنے کے لیے ناگزیر ہوچکا ہے۔ اٹلی میں وزیر اعظم برلسکونی کے مستعفی ہوجانے کے اعلان کے بعد امید ہے کہ کفایت شعاری کے اقدامات کی منظوری کا سلسلہ تیز تر ہوجائے گا۔

75 سالہ برلسکونی کہہ چکے ہیں کہ جیسے ہی پارلیمان اصلاحات کی منظوری دے دے گی وہ مستعفی ہوجائیں گے۔ یہ اصلاحات ممکنہ طور پر رواں ماہ کے اواخر میں پارلیمان میں پیش کی جائیں گی۔

برلسکونی کے اعلان کے بعد امریکہ کا ڈوجونز انڈسٹریل انڈیکس 102 پوائنٹس کے اضافے کے بعد بند ہوا جبکہ ناسدیک اور ایس اینڈ پی انڈیکس میں بھی تیزی دیکھی گئی۔ امریکی ڈالر کے مقابلے میں یورو کرنسی کی قدر میں بھی اعشاریہ پانچ فیصد کی بہتری نوٹ کی گئی اور ایک یورو کی قیمت ایک ڈالر 38 سینٹ تک پہنچی۔ سوئس فرانک اور جاپانی ین کے مقابلے میں یورو کی قدر میں استحکام رہا۔

NO FLASH Italien Silvio Berlusconi Milliardensparpaket gegen Schuldenkrise‎ Juli 2011

اطالوی وزیر اعظم برلسکونی

برلسکونی 1994ء سے 1995ء تک، 2001ء سے 2006ء تک اور پھر اب سال 2008ء سے اٹلی کے وزیر اعظم چلے آرہے ہیں۔ اربوں ڈالر کے ذاتی اثاثوں کے مالک یہ سیاست دان کئی طرح کے تنازعات کا سامنا کر چکے ہیں۔ مالیاتی امور کے ایک امریکی ماہر مارک لوک بِل کا کہنا ہے کہ برلسکونی کے چلے جانے سے اٹلی کی سیاسی قیادت میں نیا خون شامل ہوسکے گا جو اصلاحات کے معاملات میں تعمیری کردار ادا کرے گا۔

چونکہ یہ وقت ہی ثابت کرے گا کہ نئی حکومت اخراجات میں کمی اور معاشی نمو کو یقینی بناسکے گی یا نہیں؟ اسی لیے بعض اقتصادی ماہرین یورو زون کے مستقبل کے حوالے سے اپنے تجزیوں میں محتاط ہیں۔ اٹلی پر قرضوں کا بوجھ اس کی مجموعی قومی پیداوار کے 120 فیصد کے برابر تک پہنچ چکا ہے یعنی یورو کرنسی استعمال کرنے والے خطے میں اٹلی دوسرا سب سے بڑا مقروض ہے۔

فوریکس ڈاٹ کام سے وابستہ تجزیہ کار برائن ڈولن کے بقول برلسکونی کی جانب سے مستعفی ہوجانے کے اعلان سے فی الحال محض ایک سیاسی نوعیت کی پیشرفت ہوئی ہے، ساتھ ہی ممکنہ سیاسی انتشار کی راہ بھی کھل گئی ہے جو کفایت شعاری کے منصوبے کی پارلیمان سے منظوری اور ان پر عملدرآمد کی راہ میں حائل ہوسکتی ہیں۔

رپورٹ: شادی خان سیف

ادارت: ندیم گِل

DW.COM