1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

’برقعہ پوش خود کش بمبار‘ محبوبہ سے ملنے جا رہا تھا

ترک پولیس نے ایک ’برقعہ پوش خود کش بمبار‘ کو گرفتار کر لیا جو مشتبہ طور پر بم حملہ کرنا چاہتا تھا۔ حقیقت یہ تھی کہ ملزم چھپ کر اپنی محبوبہ سے ملنے جا رہا تھا، جس سے اس کی شناسائی ایک ڈیٹنگ ویب سائٹ کے ذریعے ہوئی تھی۔

استنبول سے اتوار آٹھ نومبر کو ملنے والی نیوز ایجنسی اے ایف پی کی رپورٹوں کے مطابق ترک میڈیا نے آج بتایا کہ اس ملزم کو شمالی ترکی میں ہفتہ سات نومبر کو گرفتار کیا گیا اور اس نے برقعہ پہن کر اپنی شناخت چھپانے کی کوشش اس لیے کی تھی کہ وہ اپنی ایک ان دیکھی محبوبہ کو پہلی بار ملنے جا رہا تھا۔ اس محبوبہ سے ملزم کا تعارف ایک ڈیٹنگ ویب سائٹ پر ہوا تھا اور وہ اس سے ملنے کا شدید خواہش مند تھا۔

ترک نیوز ایجنسی دوگان نے لکھا ہے کہ ملزم کو دیکھ کر ترکی کے بحیرہء اسود کے کنارے واقع صوبے اوردُو میں مقامی لوگوں نے پولیس کو خبردار کر دیا تھا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ یہ بظاہر ایک ایسی برقعہ پوش ‌خاتون تھی، جس نے مردانہ جوتے پہن رکھے تھے اور وہ ایک بس اسٹاپ پر کسی سے فون پر بات کر رہی تھی۔ مقامی باشندوں نے سمجھا کہ یہ کوئی دہشت گرد تھا، جس نے برقعہ پہن رکھا تھا اور جو شاید کوئی ’خود کش بم حملہ‘ کرنا چاہتا تھا۔

کچھ ہی دیر بعد پولیس کی ایک ٹیم موقع پر پہنچ گئی، جس نے ملزم کا برقعہ اور نقاب اتارا تو ہر کوئی حیران رہ گیا۔ مبینہ ملزم ایک مرد تھا۔ اس نے بتایا کہ اس کی عمر 33 برس تھی اور وہ شادی شدہ اور دو بچوں کا باپ تھا۔ پولیس نے سر سے پاؤں تک سیاہ برقعے میں ملبوس اس شخص کو ’عوام میں خوف و ہراس پھیلانے‘ کے جرم میں باقاعدہ گرفتار کر لیا ہے۔

ملزم نے دوران تفتیش پولیس کو بتایا کہ اس نے برقعہ اپنی اصلی شناخت چھپانے کے لیے پہنا تھا اور وجہ اس محبوبہ سے چھپ کر ملاقات کرنا تھی، جس سے وہ کچھ ہی عرصہ پہلے ایک آن لائن ڈیٹنگ سائٹ پر متعارف ہوا تھا۔ اب لیکن اس ترک شہری کو اپنے خلاف قانونی کارروائی کا سامنا کرنا ہو گا۔

عسکریت پسند تنظیم اسلامک اسٹیٹ یا داعش کی طرف سے گزشتہ کچھ عرصے کے دوران ترکی میں کیے جانے والے متعدد خوفناک بم حملوں کے بعد ترکی میں سکیورٹی ادارے ان دنوں انتہائی چوکنا ہیں۔ ایسے ہی ایک دوہرے خود کش بم حملے میں دارالحکومت انقرہ میں 10 اکتوبر کو 102 افراد مارے گئے تھے۔ یہ حملہ ترکی کی تاریخ کا سب سے ہلاکت خیز دہشت گردانہ حملہ تھا۔