1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

’برطانیہ کے یورپی یونین سے نکلنے کا فائدہ روس کو ہو گا‘

اگر برطانوی عوام جون میں ہونے والے ریفرنڈم میں یورپی یونین سے الگ ہونے کے حق میں ووٹ دیتے ہیں تو روسی جارحیت کے خلاف یورپی بلاک کی کوششوں کو نقصان پہنچائے گی۔ یہ بات برطانیہ کے یورپی منسٹر نے کہی ہے۔

سلوواکیہ کے دارالحکومت براٹسلاوا میں ہونے والی ’گلوبل سیک سکیورٹی کانفرنس‘ کے دوران یورپی پارلیمان کے برطانوی وزیر ڈیوِڈ لِڈنگٹن کا کہنا تھا کہ نیٹو اتحاد یورپی سلامتی میں اہم کردار ادا کر رہا ہے تاہم یورپی یونین توانائی، معلومات کے استعمال اور سائبر صلاحیتوں کے میدان میں روسی چیلنجز کا جواب دینے میں زیادہ مضبوط کردار ادا کر سکتی ہے۔

برطانیہ میں 28 رکنی یورپی یونین بلاک سے علیحدگی کے سوال پر عوامی ریفرنڈم رواں برس 23 جون کو منعقد ہونا ہے۔ YouGov کی طرف سے آن لائن کرائے جانے والے ایک سروے کے جمعہ 15 اپریل کو جاری کیے گئے نتائج کے مطابق یورپی یونین میں شامل رہنے کے حق میں چلائی جانے والی مہم کو ایک پوائنٹ کی برتری حاصل ہے۔

لِڈنگٹن کا یونین سے ممکنہ اخراج کے تناظر میں کہنا تھا، ’’روسی جارحیت کے سامنے ایک مضبوط محاذ قائم رکھنے کی بات کی جائے۔۔۔ تو وہ کمزور ہو جائے گا۔‘‘ ان کا مزید کہنا تھا، ’’یورپ کی خارجہ پالیسی اور سکیورٹی کے حوالے سے صلاحیت کم ہو جائے گی کیونکہ آپ اس میں سے ایک سب سے بڑے سفارتی اور فوجی پارٹنر کو اس سے نکال لیں گے۔‘‘

روایتی ملٹری خطرات کے علاوہ روس نے یورپی سکیورٹی کے لیے دیگر حوالوں سے بھی چیلنجز کھڑے کر دیے ہیں، ڈیوِڈ لِڈنگٹن

روایتی ملٹری خطرات کے علاوہ روس نے یورپی سکیورٹی کے لیے دیگر حوالوں سے بھی چیلنجز کھڑے کر دیے ہیں، ڈیوِڈ لِڈنگٹن

لِڈنگٹن کا کہنا تھا کہ روایتی ملٹری خطرات کے علاوہ روس نے یورپی سکیورٹی کے لیے دیگر حوالوں سے بھی چیلنجز کھڑے کر دیے ہیں جن میں اس کی طرف سے توانائی کے ذرائع کا استعمال اور اپنے مقاصد کے حصول کے لیے معلومات کے استعمال اور سائبر صلاحتیں وغیرہ شامل ہیں، ’’یہ وہ چیزیں ہیں جن کے جواب کے لیے صرف نیٹو کو نہیں بلکہ یورپی یونین کو تیار رہنے کی ضرورت ہے۔‘‘

ایسٹونیا کی طرف سے ماضی میں روس کی طرف سے اس پر سائبر حملوں کا الزام عائد کیا جاتا رہا ہے۔ یورپی یونین نے گزشتہ برس ایک انفارمیشن یونٹ قائم کیا تھا جس کا مقصد ماسکو کی طرف سے یوکرائن اور یورپ کے دیگر حصوں میں معلومات کے غلط استعمال کا مقابلہ کرنا تھا۔

یوکرائن کے ساتھ تنازعے کے دوران روس نے یوکرائن کو فراہم کی جانے والی گیس کی سپلائی کئی مرتبہ کاٹ دی تھی جس کے اثرات یورپ کے دیگر ملکوں کو فراہم کی جانے والی سپلائی پر بھی پڑے تھے۔ اس کے بعد سے ’نارڈ اسٹریم ٹو‘ نامی پائپ لائن بچھانے کے منصوبے کی کوشش بھی کی جا رہی ہے۔ اس پائپ لائن کے ذریعے یوکرائن سے گزرنے والی پائپ لائن سے ہٹ کر جرمنی کو گیس فراہم کی جا سکے گی۔ اس وقت روس یورپ کو جو گیس فراہم کر رہا ہے اس کا 80 فیصد یوکرائن سے ہو کر گزرتا ہے۔