1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

فن و ثقافت

برطانیہ کے ’ریڈ فون باکسز‘ کو بچانے کی کوششیں

موبائل فون کی ایجاد اور اس کا استعمال عام ہونے کی وجہ سے برطانیہ میں سرخ رنگ کے اور دنیا بھر میں مشہور وہ ٹیلی فون بوتھ یا ’ریڈ فون باکسز‘ اب اپنی اہمیت کھو چکے ہیں، جو ماضی میں بگ بین کی طرح لندن شہر کی بھی پہچان تھے۔

default

جدید انفارمیشن ٹیکنالوجی سے جہا ں انسانی زندگی میں بہت سی آسانیاں پیدا ہو گئی ہیں وہیں ٹیکنالوجی نے جغرافیائی فاصلے کم کرکے دنیا کو ایک عالمگیر گاؤں بنا دیا ہے۔ لیکن ان گنت نئی ایجادات نے کئی روایتی اشیائے صرف کے استعمال اوران کی افادیت کو بھی بہت کم کر دیا ہے۔

انگلش دیہات کے لوگ سرخ رنگ کے مشہور ٹیلی فون بوتھ یا ’ریڈ فون باکسز‘ کو ہمیشہ کے لئے الوداع کہنے کے بجائے انہیں ایک تاریخی اورثقافتی اہمیت اختیارکرجانے والی روایتی یادگار کے طور پر محفوظ کر رہے ہیں۔ مقامی لوگوں کا خیال ہے کہ ان فون باکسز کو اب آرٹ اور شاعری کی نمائش یا چھوٹی لائبریری کے طورپراستعمال کیا جا سکتا ہے۔ اسی لئے کئی انگلش دیہات میں عام باشندے ایسے سینکڑوں باکسز کو محفوظ کرکے گزرے عشروں کی برطانوی زندگی کے ایک خوبصورت پہلو کو ناپید ہونے سے بچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

Gälisch Landschaft mit Telefonzelle

آکسفورڈ کے قریب ’واٹر پیری‘ نامی گاؤں کے120 رہائشیوں نے وہاں ایک بڑے اور قدیم گھر کے قریب اسی قسم کے ایک ’ریڈ فون باکس‘ میں خوبصورت پودوں، باغبانی کے آلات اورکھانے پینے کی اشیاء کے بارے میں معلومات سے بھرے رسالے رکھ دیے ہیں۔ جب ٹیلی کامز آپریٹرز نے اس باکس کو وہاں سے لے جانے کی بات کی تو لوگوں نے اعلان کیا کہ وہ ایسا نہیں ہونے دیں گے یہاں تک کی ’کینڈال ٹرنر‘ نامی ایک عورت نے تو یہ کہہ دیا کہ وہ اس باکس کو بچانے کے لئے خود کو اس سے باندھ لیں گی۔ اس عورت کا کہنا تھا کہ اس باکس کے لے جانے سے گاؤں والوں کے دل ٹوٹ جا ئیں گے۔ مقامی کونسلر ٹریسیاہالم کا کہنا ہے کہ کسی کویہ سرخ فون باکسز لے جانے کی اجازت نہیں دی جا ئےگی کیونکہ یہ باکسزاب برطانیہ کا قومی ورثہ بن گئے ہیں۔ تین فٹ چوڑے اورسوا آٹھ فٹ اونچے یہ باکسز گلز گلبرٹ سکاٹ نے 1936ء میں بنائے تھے۔ ایک وقت ایسا بھی آیا کہ سیاح بھی سرخ رنگ کے ا ن باکسز میں گہری دلچسپی لینے لگے تھے اور یہی باکسز انگلینڈ کی شناخت بن گئے۔

آٹھ سال پہلے برطانیہ میں ان باکسز کی تعداد 17 ہزار تھی۔ موبائل فون کا استعمال انتہائی عام ہونے کی وجہ سے اب ان میں سے 58 فیصد تو مکمل طورپرتو مالکان کے لئے خسارے کا سبب بن رہے ہیں اور10 فیصد کیبن مہینے میں صرف ایک باراستعمال ہوتے ہیں۔ ان میں سے بعض کیبنز کو تو اب چھوٹے’ بارز‘ میں تبدیل کردیا گیا ہے۔

Junge Frau mit Handy

موبائل فون کا استعمال عام ہونے کی وجہ سے اب10 فیصد کیبن مہینے میں صرف ایک باراستعمال ہوتے ہیں

"بی ٹی پے فونز" کے جنرل مینیجرجون لمب کا کہنا ہے کہ ان باکسز کواپنی اصلی حالت میں برقرار رکھنا اب کافی دشوار ہو گیا ہے۔ دو سال پہلے انہوں نے مقامی انتظامیہ کولکھا تھا کہ یہ باکسز گرجائیں گے اس لئے ان کو مسمار کرنے کی اجازت دی جائے لیکن اس کے جواب میں بتایا گیا کہ دیہات کے لوگ ان باکسز سے جذباتی وابستگی رکھتے ہیں اور وہ انہیں اپنی زندگی کا حصہ سمجھتےہوئے ان کو مسمار کرنے پر راضی نہیں ہیں۔ لمب کا یہ بھی کہنا ہے کہ برطانیہ میں کالی ٹیکسیوں کی طرح یہ ریڈ باکسز بھی بہت مشہور ہیں۔ لوگوں کی جانب سے باکسز کی مسماری پر آمادہ نہ ہونے بعد بی ٹی نے ایک پروگرام شروع کیا، جس کے تحت انتظامیہ کو کہا گیا کہ وہ ایک پاؤند کے عوض اپنا اپنا کیبن خرید لے۔ اگست 2008 ء کے بعد سے اب تک ایک ہزار ایک سو اٹھارہ باکسز خریدے جا چکے ہیں اورابھی مزید چارہزار باقی ہیں، جو انتہائی خستہ حالت میں ہیں۔ ان باکسز کو لائبریری میں تبدیل کرنے کی سوچ کو بہت زیادہ پذیرائی مل رہی ہے۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ اس سے انہیں پڑھنے کو بہت کتابیں ملیں گی اوراس طرح یہ ریڈ باکسز زیادہ عرصے تک لوگوں کے کام آسکیں گے۔

رپورٹ : بخت زمان

ادارت : مقبول ملک