1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

برطانیہ کو ’سانس لینے کی مہلت‘ مل گئی

یورپی رہنماؤں نے تُند و تیز بحث کے بعد برطانیہ کو یورپی یونین سے الگ ہونے کا قانونی عمل شروع کرنے سے قبل اس قدر وقت دے دیا ہے کہ وہ ’بریگزٹ‘ کے حق میں عوامی فیصلے سے لگنے والے دھچکے کو برداشت کرنے کے قابل ہو سکے۔

ڈیوڈ کیمرون اور ژاں کلود یُنکر

ڈیوڈ کیمرون اور ژاں کلود یُنکر

ساتھ ہی برطانیہ پر یہ بھی واضح کر دیا گیا ہے کہ اس عمل کے آغاز کے لیے مہینوں تک انتظار نہیں کیا جا سکتا۔ منگل 28 جون کو برسلز میں ہونے والی یورپی یونین کی سربراہ کانفرنس کے موقع پر برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون 23 جون کے ریفرنڈم کے بعد پہلی مرتبہ اپنے یورپی ساتھیوں کے رو برو ہوئے۔ یورپی رہنماؤں نے اس سربراہ ملاقات کو ’سوگوار‘ مگر مفید قرار دیا۔

ریفرنڈم کے بعد برطانیہ کے داخلی حالات

جمعرات کے روز برطانیہ میں ہونے والے عوامی ریفرنڈم میں یورپی یونین کے حق میں ووٹنگ کے بعد عالمی مارکیٹوں کو کھربوں ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ دوسری طرف برطانیہ کا اپنا مستقبل بھی داؤ پر لگ گیا ہے کیونکہ اسکاٹ لینڈ نے کہا ہے کہ اُس نے یورپی یونین میں رہنے کے حق میں ووٹ دیا ہے اس لیے وہ ایک بار پھر برطانیہ سے آزادی کے لیے ریفرنڈم منعقد کرا سکتا ہے۔ یہی نہیں بلکہ برطانوی سیاست میں بھی شدید ہلچل دیکھنے میں آئی ہے اور ووٹنگ کا نتیجہ سامنے آنے کے بعد وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون بھی آئندہ اپنے عہدے سے الگ ہونے کا اعلان کر چکے ہیں۔

چونکہ اس ریفرنڈم میں برطانوی دارالحکومت لندن کے عوام نے بھی یورپی یونین میں رہنے کے حق میں ہی ووٹ دیا تھا، اس لیے ہزارہا لوگ لندن کی سڑکوں پر نکلے ہوئے ہیں اور ریفرنڈم کے نتائج کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔ مظاہرین نے یورپی یونین کے پرچم اٹھائے ہوئے ہیں اور ان کے پلے کارڈز پر تحریر ہے کہ بریگزٹ کو روکو۔

برطانیہ میں آئندہ اقدامات سے قبل ’گرد بیٹھ جانے تک‘ کچھ وقت درکار ہو گا، ڈونلڈ ٹُسک

برطانیہ میں آئندہ اقدامات سے قبل ’گرد بیٹھ جانے تک‘ کچھ وقت درکار ہو گا، ڈونلڈ ٹُسک

برطانیہ کے لیے یورپی رہنماؤں کا سخت رویہ

منگل 28 جون کو برسلز میں کئی گھنٹوں تک جاری رہنے والی سربراہی بات چیت کے بعد یورپی یونین کے صدر ڈونلڈ ٹُسک کا کہنا تھا کہ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ برطانیہ میں آئندہ اقدامات سے قبل ’گرد بیٹھ جانے تک‘ کچھ وقت درکار ہو گا۔ تاہم برطانیہ کو مثال بناتے ہوئے دیگر یورپی ریاستوں کی طرف سے بھی ممکنہ طور پر یورپی یونین چھوڑنے جیسے تحفظات کے حوالے سے یورپی کمیشن کے صدر ژاں کلود یُنکر کا کہنا تھا کہ برطانیہ کے پاس ’معاملات طے کرنے کے لیے مہنیوں کا وقت‘ نہیں ہے۔

انہوں نے کیمرون کے بعد رواں برس ستمبر کے اوائل میں برطانیہ کے نئے وزیر اعظم کی طرف سے عہدہ سنبھالنے کے بعد آرٹیکل 50 کو عمل میں لانے کے لیے ایک واضح ٹائم ٹیبل دیا۔ خیال رہے کہ یورپی یونین کے لزبن ٹریٹی کے مطابق کسی ملک کو یونین سے الگ ہونے کے لیے اس آرٹیکل کا سہارا لینا ہو گا اور الگ ہونے کے عمل کے لیے کم از کم دو برس کا وقت درکار ہو گا۔

یورپی یونین برطانیہ سے جلد از جلد ’جان چھڑانے‘ کی کوشش میں

یُنکر کا کہنا تھا کہ اگر نیا برطانوی وزیر اعظم بھی اُن لوگوں میں سے ہوا جو یورپی یونین میں رہنے کے حق میں ہیں، تو برطانیہ کے پاس آرٹیکل 50 کو لاگو کرنے کے لیے دو ہفتے کا وقت ہو گا۔ لیکن اگر نیا وزیر اعظم یورپی یونین چھوڑنے کے حق میں ہوا تو اس کے عہدہ سنبھالنے کے اگلے دن ہی اس آرٹیکل کا نفاذ ہو جانا چاہیے۔