1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

برطانیہ کسی خوش فہمی میں نہ رہے، میرکل

جرمن چانسلر میرکل نے خبردار کیا ہے کہ بریگزٹ مذاکرات کے دوران اُن چیلنجز کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے، جن کا یورپی یونین اور اِس دنیا کو آج کل سامنا ہے۔ ان کے بقول برطانیہ پر لازماً اُس کی ذمہ داریاں واضح کی جانی چاہییں۔

جرمن چانسلر انگیلا میرکل نے خبردار کیا کہ بریگزٹ مذاکرات کے دوران برطانیہ کو اپنے لیے مراعات کے حوالے سے کسی خوش فہمی میں رہنے کی ضرورت نہیں۔ آج جمعرات کو جرمن پارلیمان میں اپنے ایک پالیسی بیان میں ان کا کہنا تھا کہ یورپی یونین سے باہر کے کسی بھی ملک کو وہ حقوق اور وہ رعایت حاصل نہیں ہو سکتی، جو اس اتحاد کے ارکان کو حاصل ہے۔

میرکل نے زور دے کر کہا کہ بریگزٹ مذاکرات کی ابتدا ہی میں لندن حکام پر اُن کی مالی ذمہ داریاں واضح کر دی جانی چاہیں۔ میرکل کے خیال میں اِن مذاکرات کے دوران یورپی یونین کے شہریوں کے مفادات کو اولین ترجیح حاصل ہونی چاہیے:’’اس بات چیت کا ہدف یورپی یونین اور برطانیہ کے مابین قریبی، اچھے اور پراعتماد تعلقات کا قیام ہونا چاہیے‘‘۔

دوسری جانب ہفتے کے روز برسلز میں یورپی یونین کا ایک سربراہی اجلاس منعقد ہو رہا ہے۔ اس میں اس اتحاد کے ستائیس ممالک کے سربراہانِ مملکت و حکومت شرکت کریں گے۔ برطانیہ، ظاہر ہے، اس میں شریک نہیں ہو گا۔ اس موقع پر بھی برطانیہ کے یورپی یونین سے انخلاء کے طریقہٴ کار کے موضوع پر ہی بات چیت کی جائے گی اور اس بارے میں فیصلے عمل میں لائے جائیں گے۔

دریں اثناء برطانوی وزیر اعظم ٹریزا مے کے دفتر نے بتایا ہے کہ مے کی یورپی کمیشن کے سربراہ ژان کلود ینکر سے بات چیت کافی کارآمد رہی۔ ان دونوں رہنماؤں کی یہ ملاقات بدھ کو مے کی سرکاری رہائش گاہ ’ٹین ڈاؤننگ اسٹریٹ‘ پرعشائیے کے موقع پر ہوئی۔ مے کے دفتر نے بتایا ہے کہ دونوں نے اس دوران برطانیہ کی یورپی یونین کے ساتھ ایک گہری اور خصوصی شراکت داری کے عزم کا اعادہ کیا۔ اس ملاقات میں اور کون سے موضوعات زیر بحث آئے، یہ تو واضح نہیں کیا گیا تاہم یورپی کمیشن کے ترجمان نے صرف اتنا کہا کہ بات چیت تعمیری تھی۔ بریگزٹ کا عمل تقریباً دو سال بعد مارچ 2019ء میں مکمل ہو گا۔