برطانیہ کا یونین سے ممکنہ انخلا: ’نتائج خطرناک ہو سکتے ہیں‘ | حالات حاضرہ | DW | 21.05.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

برطانیہ کا یونین سے ممکنہ انخلا: ’نتائج خطرناک ہو سکتے ہیں‘

سات ترقی یافتہ ممالک کے وزرائے مالیات نے عالمی اقتصادی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ایک اجلاس میں ان وزراء نے معاشی ترقی میں استحکام کے لیے فیصلے بھی کیے تاہم کرنسی کے حوالےسے مشترکہ پالیسی بنانے میں ناکام رہے۔

جی سیون ممالک کے وزرائے مالیات کا دو روزہ اجلاس آج شمالی جاپانی شہر سنڈائی میں اختتام پذیر ہو گیا۔ اس اجلاس کے اختتام پر جاری ہونے والے اعلامیے میں ٹیکس چوری اور دہشت گرد تنظیموں کی مالی امداد روکنے جیسے موضوعات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ ہفتے کے دن کی کارروائی میں تمام وزراء نے مشترکہ طور پر کہا کہ برطانیہ کو یورپی یونین کا حصہ ہی رہنا چاہیے۔ ان کے بقول اگر برطانیہ یورپی یونین سے نکل جاتا ہے تو یہ عالمی اقتصادیات کے لیے ایک بڑا دھچکا ہو گا جبکہ یہ سیاسی عدم استحکام کا باعث بھی بن سکتا ہے۔

اس دوران یہ بھی کہا گیا کہ اگر برطانوی عوام یورپی یونین میں شامل رہنے کے خلاف فیصلہ کرتے ہیں، تو لندن حکومت کو پچاس سے زائد ایسے ممالک کے ساتھ نئے کاروباری معاہدے کرنا ہوں گے، جو یورپی یونین کا حصہ نہیں ہیں،’’اس کام میں سالوں لگ سکتے ہیں اور اس سے برطانوی کمپنیاں بھی خود کو محفوظ تصور نہیں کریں گی اور اس طرح بے روزگاری بھی بڑھنے کے قوی امکانات ہیں۔‘‘

Flaggen EU und Großbritannien Symbol Brexit

اگر برطانیہ یورپی یونین سے نکل جاتا ہے تو یہ عالمی اقتصادیات کے لیے ایک بڑا دھچکا ہو گا

جاپان کی میزبانی میں ہونے والے اس اجلاس کے دوران یہ بھی کہا گیا کہ عالمی معیشت کو متعدد اور متنوع مشکلات کا سامنا ہے اور ان مسائل کو حل کرنے کے لیے مختلف اقدامات بھی تجویز کیے گئے ہیں۔ جی سیون ممالک کے وزرائے مالیات نے یہ فیصلہ بھی کیا کہ دہشت گرد تنظیموں کے مالی نظام اور ان کو ملنے والی رقوم کے سلسلے کو روکنا بھی ضروری ہے۔ اس سلسلے میں اگلے ہفتے جی سیون ممالک کے سربراہی اجلاس میں ایک معاہدے پر دستخط بھی کیے جا رہے ہیں۔ اس کے تحت خفیہ معلومات کے تبادلے کے نظام کو مؤثر بنایا جائے گا، مشتبہ افراد کے اثاثے منجمد کیے جا سکیں گے اور بین الاقوامی سطح پر رقوم کے لین دین کے حوالے سے سخت ضوابط بنائے جائیں گے۔

جی سیون ممالک میں جاپان، امریکا، جرمنی، کینیڈا، اٹلی، فرانس اور برطانیہ شامل ہیں۔ ان ممالک نے اپنے بیان میں کہا ہے، ’’دہشت گردی کا انسداد اور اس میں ملوث افراد کو کیفر کردار تک پہنچانا اس گروپ کی اولین ترجیحات میں شامل رہے گا۔‘‘ اس بیان میں اس مقصد کے تحت ایک دوسرے کے ساتھ مل کر اقدامات کرنے پر بھی اتفاق کیا گیا۔

ملتے جلتے مندرجات