1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

برطانیہ کا یورپی یونین سے اخراج، حمایت بڑھتی ہوئی

برطانیہ کے یورپی یونین سے اخراج سے متعلق برطانوی عوام کی حمایت میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اتوار کے روز سامنے آنے والے نئے عوامی جائزے اس رجحان کی واضح نشان دہی کر رہے ہیں۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق پیرس میں دہشت گردی اور کولون میں خواتین پر جنسی حملوں کے واقعات کے بعد برطانیہ میں یورپی یونین سے اخراج کی بابت عوامی حمایت میں اضافہ ہوا ہے۔ برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون نے وعدہ کر رکھا ہے کہ وہ اگلے برس ملک میں ریفرنڈم منعقد کروائیں گے، جس میں برطانوی عوام سے پوچھا جائے گا کہ آیا وہ برطانیہ کی یورپی یونین میں موجودگی چاہتے ہیں یا اخراج۔ اس ریفرنڈم کی بابت تاہم یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ یہ اس برس بھی یعنی رواں برس جون یا اس کے بعد کسی بھی وقت منعقد کروایا جا سکتا ہے۔

ایک تازہ ترین عوامی جائزے میں 53 فیصد شہریوں نے برطانیہ کے یورپی یونین سے نکل جانے کی حمایت میں رائے دی، جب کہ اس کے مقابلے میں یورپی یونین کے حامی شہریوں کی تعداد صرف 47 فیصد رہی۔

برطانوی اخبار ’میل‘ میں شائع ہونے والے اس عوامی جائزے میں ان افراد کی رائے شامل نہیں کی گئی، جو اس سلسلے میں ابھی کسی فیصلے پر نہیں پہنچے ہیں۔ برطانوی اخبار کے مطابق اگر ان افراد کو بھی اس عوامی جائزے میں شامل کیا جائے تو صورت حال کچھ یوں ہو گی کہ 42 فیصد شہری یورپی یونین سے برطانیہ کا اخراج ، 38 فیصد یورپی یونین میں موجودگی اور 20 فیصد ابھی اپنی رائے فی الحال محفوظ رکھنا چاہتے ہیں۔

یہ عوامی جائزہ جنوری کی 15 تا 16 تاریخ آن لائن کیا گیا۔

ستمبر میں ایسے ہی ایک جائزے میں 49 فیصد عوام یورپی یونین سے اخراج کے خلاف اور 51 فیصد یورپی یونین سے اخراج کے حق میں رائے کے حامل تھے۔

رائے دہندگان میں سے 34 فیصد کا کہنا تھا کہ پیرس حملوں کے بعد ان کے لیے یہ فیصلہ کرنا آسان ہو گیا کہ برطانیہ کو یورپی یونین سے نکل جانا چاہیے۔ اس کے علاوہ 38 فیصد برطانوی شہریوں نے جرمن شہر کولون میں خواتین پر جنسی حملوں کے تناظر میں اپنی رائے یورپی یونین سے اخراج کے حق میں قائم کی۔

برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون کہہ چکے ہیں کہ وہ برطانیہ کی یورپی یونین میں موجودگی چاہتے ہیں اور اس ریفرنڈم کے لیے وہ اپنی مہم بھی اس سلسلے میں چلائیں گے، تاہم ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ان کی کابینہ میں شامل وزراء اگر چاہیں تو یورپی یونین سے اخراج کے حق میں جاری مہم میں شامل ہو سکتے ہیں۔