1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

برطانیہ نے یورپی یونین سے ’طلاق‘ کی دستاویز پر دستخط کر دیے

برطانوی وزیراعظم ٹیریزا مے نے اس تاریخی دستاویز پر دستخط کر دیے ہیں، جس کی رُو سے اب برطانیہ کا یورپی یونین سے علیحدگی کا سلسلہ شروع ہو سکے گا۔ یہ دستاویز آج بدھ کو برسلز پہنچ جائے گی۔

برطانوی وزیر اعظم ٹیرزا مے نے منگل کو دیر گئے اس دستاویز پر دستخط کیے۔ اس کے بعد اب یورپی یونین کے لزبن معاہدے کے آرٹیکل پچاس پر عمل درآمد شروع ہو سکے گا۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ آج سے برطانیہ کا یورپی یونین سے انخلا کے لیے کارروائی باقاعدہ شروع ہو جائے گی، جس میں دو سال تک کا عرصہ لگ سکتا ہے۔ اس طرح برطانیہ اور یورپی یونین کی چوالیس سالہ رفاقت اپنے اختتام کوپہنچ جائے گی۔

 آج جیسے ہی یہ دستاویز برسلز پہنچے گی، ٹیریزا مے بھی اسی لمحے ملکی پارلیمان سے خطاب کریں گے، جس میں ایک ایسے بریگزٹ معاہدے پر زور دیں گی، جو تمام برطانوی عوام کے مفاد میں ہو۔ مے کے مطابق، ’’یہ میرا ٹھوس عزم ہے کہ اس ملک کے ہر شہری کے لیے ایک بہتر معاہدہ کیا جائے گا۔ ہم عظیم لوگوں کی ایک قوم ہیں، ایک قابل فخر ماضی اور ایک تابناک مستقبل والی قوم۔ اور اب یورپی یونین کو چھوڑنے کا فیصلہ ہو چکا ہے اور اس وقت ہمیں ایک دوسرے کا ساتھ دینا ہے۔‘‘۔

اس دوران برطانوی وزیراعظم ٹیریزا مے اپنے خطاب میں یورپی یونین کے دیگر رکن ممالک کے ان تقریباً تیس لاکھ  شہریوں کا بھی ذکر کریں گی، جو برطانیہ میں مقیم ہیں۔

گزشتہ برس جون ہونے والے ریفرنڈم میں برطانوی عوام نے یورپی یونین سے علیحدگی کے حق میں فیصلہ دیا تھا۔ تاہم آج سے دو سال بعد یعنی مارچ 2019ء میں ان کی یہ خواہش پوری ہو جائے گی۔ برطانیہ میں ابھی بھی بریگزٹ کے حوالے سے منقسم رائے پائی جاتی ہے۔

DW.COM

Audios and videos on the topic