1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

برطانیہ نے فضائی حدود کھول دیں

برطانیہ نے پروازوں پر لگائی گئی پابندی اٹھا لی ہے، جس کے بعد لندن کا ہیتھرو ایئرپورٹ کھول دیا گیا ہے۔ یورپ کے متعدد ممالک نے آئس لینڈ میں ایک آتش فشاں سے اٹھنے والی راکھ کے باعث اپنی فضائی حدود بند کر رکھی تھیں۔

default

Island Vulkan Natur Landschaft

آتش فشاں کی راکھ کے باعث پروازیں پانچ روز تک معطل رہیں

جرمنی، فرانس اور بیلجیئم سمیت فضائی حدود بند کرنے والے دیگر ممالک نے منگل کو پہلے ہی پابندی میں نرمی پیدا کر دی تھی۔

پانچ روز بعد ہیتھرو ایئرپورٹ کھلنے کے بعد وہاں پہلی پرواز منگل کی شب وینکور سے پہنچی۔ یورپ کا یہ مصروف ترین ہوائی اڈہ برطانوی سول ایوی ایشن کے اس اعلان کے بعد کھولا گیا، جس میں کہا گیا کہ منگل کو عالمی وقت کے مطابق رات نو بجے سے پروازوں پر لگائی گئی پابندی بتدریج کھولی جائے گی۔

وزیر مواصلات اینڈریو ایڈونس کا کہنا ہے کہ برطانوی ہوائی اڈے اب کھولے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے توقع ظاہر کی کہ دوبارہ پابندی کی نوبت نہیں آئے گی۔ انہوں نے کہا، ’سول ایوی ایشن نے پروازوں کے لئے محفوظ وسیع تر علاقے کا تعین کر لیا ہے، جو یورپی یونین کے وزرائے مواصلات کے درمیان پیر کو طے پانے والے فریم ورک کے مطابق ہے۔‘

برطانیہ میں یہ پابندی اٹھائے جانے کا فیصلہ ایسے وقت کیا گیا، جب حکام اور فضائی کمپنیوں کے درمیان کشیدگی بڑھ رہی تھی۔ برٹش ایئرویز نے اپنے غصے کا اظہار کرنے کے لئے پابندی کی پروا کئے بغیر ہیتھرو ایئرپورٹ پر طیارے بھیجے۔

اس پر سول ایوی ایشن اتھارٹی نے خبردار کیا تھا کہ پابندی کی خلاف ورزی کرنے والی فضائی کمپنیوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔

تاہم ایئرلائن کے ایک ترجمان نے اس اقدام کی وجہ بتاتے ہوئے کہا کہ کمپنی کے خیال میں پابندی بلاجواز تھی اور پرواز کرنا محفوظ تھا۔ انہوں نے کہا کہ ان کا ادارہ اپنے مسافروں کی زندگی خطرے میں نہیں ڈالنا چاہتا۔

NO FLASH Startendes Flugzeug in Glasgow

پابندی اٹھائے جانے کے بعد آئس لینڈ ایئر کا طیارہ گلاسگو ایئرپورٹ سے روانہ ہو رہا ہے

دوسری جانب امریکی ٹریول ایسوسی ایشن نے کہا ہے کہ یورپ میں فضائی حدود بند کئے جانے کے بعد امریکی معیشت کو 650 ملین ڈالر کا نقصان پہنچا ہے جبکہ چھ ہزار ملازمتیں متاثر ہوئی ہیں۔

ایسوسی ایشن کے مطابق اس نقصان سے اندازہ ہوتا ہے کہ دُنیا ہر طرح کے کاروبار اور سیاحت کے لئے سفر پر کس قدر انحصار کرتی ہے۔ اس ایسوسی ایشن کے صدر راجر ڈاؤ نے کہا کہ ایسی پابندی کا فیصلہ کرتے ہوئے بے جا ردعمل پر بھی غور کیا جانا چاہئے۔

رپورٹ: ندیم گِل

ادارت: عدنان اسحاق

DW.COM