1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

برطانیہ میں ہیلتھ اینڈ سیفٹی قوانین ’وبالِ جان’

برطانیہ میں ہیلتھ ایند سیفٹی کے بعض قوانین عوام کے لئے وبالِ جان بنے ہوئے ہیں۔ تاہم اب لندن حکام ان قوانین کو سہل بنانے پر غور کر رہے ہیں۔

default

برطانیہ کی اتحادی حکومت کو اقتدار سنبھالے ابھی زیادہ وقت نہیں گزرا جبکہ اسے متعدد چیلنجز کا سامنا ہے۔ اس کے پاس اپنے ووٹروں کو خوش کرنے کے زیادہ مواقع نہیں ہیں۔ عوام ٹیکسوں سے پریشان ہیں لیکن ٹیکس کم کرنے کے لئے حکومت کو کافی مالی وسائل دستیاب نہیں۔ دوسری جانب گزشتہ ماہ حکومتی اخراجات کے جائزے سے پتا چلا کہ سرکاری محکموں میں ملازمتوں کے تقریباﹰ پانچ لاکھ مواقع کم ہو سکتے ہیں۔

اس سب کے باوجود لندن حکام عوام کے ایک دوسرے انتہائی اہم مسئلے پر قابو پانے کے لئے تیار ہیں۔ وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نے ملک میں صحت و سلامتی کے قوانین کو بہتر بنانے کا وعدہ کیا ہے۔

Großbritannien Wahlen David Cameron Konservative

برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون

برطانوی دارالحکومت لندن کے کسی پَب میں چلے جائیں، آپ دیکھیں گے کہ کچھ ہی دیر بعد موضوع گفتگو ہیلتھ اور سیفٹی کے قوانین کی ممکنہ خلاف ورزیوں کی طرف چلا جائے گا۔

شام کے اخبارات میں شائع ہونے والی کہانیوں سے بہت جلد متاثر ہونے والے راب جانز کہتے ہیں، ’اپنےکام کے دوران اس وقت تک سیڑھی کا استعمال نہ کریں، جب تک اس کی باقاعدہ تربیت حاصل نہ کر لیں۔ اور میں نے تو ایسی مثالیں بھی سنی ہیں، جب لوگوں کو مناسب ٹریننگ کے بغیر سیڑھیاں ہی نہیں چڑھنے دیا گیا۔‘

انہوں نے مزید کہا، ’جب آپ کو اپنے گھر پر سیڑھی چڑھنے کے لئے تربیت کی ضرورت نہیں، تو دفتر پر یا کام کی جگہ پر اس کی ضرورت کیوں؟‘

یہ ایسی کہانیاں ہیں، جن کا ذکر برطانیہ کے طول و عرض میں ہوتا رہتا ہے۔ ایسی ہی ایک کہانی نوعمر لڑکوں سے متعلق بھی ہے، جنہیں بچوں کا ایک کھیل (Conker) کھیلنے سے پہلے چشمے پہننے کے لئے کہا گیا۔

اس کے بارے میں راب کا کہنا ہے، ’مجھے ان لڑکوں کے بارے میں سن کر بہت دُکھ ہوتا ہے۔ میں جب چھوٹا تھا، تو میں بھی یہ کھیل کھیلتا تھا۔ مجھے تو اس سے کبھی کوئی نقصان نہیں پہنچا۔ یہ اتنا خطرناک نہیں، جتنا آپ اس کے بارے میں سوچتے ہیں۔ بچے تو اس سے زیادہ خطرناک کام کرتے ہیں، جیسے سائیکل سواری۔ سائیکل سواری کے دوران کوئی حادثہ پیش آ جائے، تو موت بھی واقع ہو سکتی ہے، جبکہ اس کھیل کے دوران ایسا کوئی خدشہ نہیں ہوتا۔‘

ارے جناب، یہ تو کچھ بھی نہیں، برطانوی معاشرے میں تو اس سے بھی خطرناک کہانیاں موجود ہیں۔ ان میں سے ایک کا ذکر تو حال ہی میں وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نے کیا۔ یہ کہانی ایک دس سالہ بچے کی ہے، جو تالاب میں ڈوب گیا۔ وہ اپنی چھوٹی بہن کو بچا رہا تھا۔ یہ واقعہ اس لئے پیش آیا کہ وہاں موجود افراد نے مداخلت نہیں کی کیونکہ انہیں تربیت کے بغیر ایسا نہ کرنے کی ہدایات تھیں۔

ایسا لگتا ہے کہ دورِ حاضر میں برطانوی معاشرے پر حفظ ماتقدم کے چند غیرضروری اصول کچھ زیادہ ہی حاوی ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ ڈیوڈ کیمرون سرکاری محکموں کے اخراجات میں کمی اور بجٹ خسارے پر قابو پانے کے لئے کچھ زیادہ نہ کر سکیں، لیکن فرد کی صحت و سلامتی کے لئے وہ ’کامن سینس‘ کے زیادہ سے زیادہ استعمال پر زور دے رہے ہیں۔

صحت و سلامتی کے قوانین اور ان سے متعلق خدشات پر مبنی ایک رپورٹ بھی جاری کی گئی ہے، جو سابق برطانوی وزیر اعظم مارگریٹ تھیچر کے پسندیدہ وزراء میں سے ایک، لارڈ ینگ نے مرتب کی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ انہوں نے خطرات کے تجزیے کی اقسام کو اس قدر سادہ بنا دیا ہے کہ سکولوں کے دورے ترتیب دینا بھی زیادہ مشکل نہیں رہے گا۔

لارڈ ینگ کہتے ہیں، ’اگر ٹیچر اپنی کلاس کو کسی دورے پر لے کر جانا چاہے، تو اسے 12 صفحات پر مبنی ایک فارم پُر کرنا ہوتا ہے، جس پر ہدایات بھی درج ہوتی ہیں۔ یہ فارم مجوزہ دورے سے آٹھ ہفتے قبل جمع کرانا ہوتا ہے، جس پر سکول میں مختلف عہدوں کے لوگ دستخط کرتے ہیں۔ یہ ایسی تکلیف دہ سرگرمی ہے، جس سے ڈے ٹرپ کا سارا مزہ جاتا رہتا ہے۔ حالانکہ بچوں کے والدین نے ہر طرح کے سکول ٹرپس کے لئے اپنی رضامندی پر مبنی خط پہلے سے ہی جمع کرایا ہوتا ہے اور اس سرگرمی سے اس خط کی اہمیت بھی ختم ہو جاتی ہے۔‘

London nach den Anschlägen Bushaltestelle an der Euston Road

برطانیہ میں ہرجانے کا دعویٰ کرنے کی روایت عام ہے

لارڈ ینگ کہتے ہیں کہ اس طرح کی صورت حال میں مداخلت کے لئے ایسے افراد درکار ہیں، جو اپنے ہی خلاف کسی عدالتی کارروائی کے خوف کے بغیر مسائل کو کم سے کم کریں۔

دوسری جانب اس رپورٹ کا ایک دوسرا پہلو بھی ہے، جسے برطانیہ میں ہرجانے پر مبنی روایت کے طور پر جانا جاتا ہے۔

برسوں سے وکلاء کی کمپنیاں ہرجانے کے دعووں کے لئے اس کی تشہیر کرتی آ رہی ہیں۔ اس بارے میں برطانیہ کی سمال بزنس فیڈریشن کے سٹیفن امبریٹس کہتے ہیں، ’چھوٹے کاروباری افراد ٹیلی وژن یا ریڈیو پر ایسے اشتہارات دیکھتے ہیں، جن میں بتایا جاتا ہے کہ مقدمہ نہ جیتنے پر کوئی فیس نہیں لی جائے گی۔ ان کے ذریعے عوام کو ہسپتالوں، مقامی انتظامیہ اور اپنے آجرین کے خلاف عدالتوں میں جانے کی ترغیب دی جاتی ہے، جس میں صارف کو کچھ کھونا نہیں پڑتا، اسے تو بس تھوڑا سا وقت ہی دینا ہوتا ہے۔‘

ایسے دعووں کے لئے طریقہء کار اب سادہ بنایا جا رہا ہے جبکہ حکومتی رپورٹ میں ایسی اشتہار بازی پر کنٹرول بڑھانے کا وعدہ بھی کیا گیا ہے۔ ان مسائل کی جانب حکومت کی بڑھتی توجہ سے یہ اُمید ہو چلی ہے کہ حفظِ ماتقدم کی غیر ضروری ہدایات اور ہرجانے کے دعووں کے خوف تلے زندگی گزارنے والے برطانوی عوام اب سُکھ کا سانس لے سکیں گے۔

رپورٹ: نِک مارٹن/ندیم گِل

ادارت: امجد علی

DW.COM