1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

برطانیہ میں پیمانہ ء مسرت متعارف کروانے کا پلان

عام طور پر جب انڈیکس کی بات ہوتی ہے تو اس سے مراد بازار حصص میں چڑھتی اترتی قیمتیں ہوتی ہیں لیکن اب برطانوی حکومت اپنی عوام کے سماجی، نفسیاتی اور ماحولیاتی رویوں کا ریکارڈ رکھنا چاہتی ہے۔

default

ڈیوڈ کیمرون: فائل فوٹو

قدامت پسند خیالات کی حامل کنزرویٹو پارٹی سے تعلق رکھنے والے برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون کی حکومت اس بات کو پلان کر رہی ہے کہ ایک ایسا پیمانہ یا انڈیکس متعارف کروایا جائے جس سے حکومت عوام کی سماجی، نفسیاتی اور ماحولیاتی رویوں کے بارے میں مکمل معلومات اکھٹی کر سکے اور پھر ان کی روشنی میں مختلف حکومتی پالیسیوں کو مرتب کیا جا سکے۔ حکومت نے اس کو ‘‘Happiness Index’’ یا پیمانہٴ مسرت کا نام دیا ہے۔

اس جدت پسندانہ حکومتی پلان کی خبرکو معتبر روزنامہ گارڈین نے حکومتی ذرائع کے حوالے سے شائع کیا ہے۔ اس انڈیکس کو ترتیب دینے کے لئے وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون اپنے محکمہٴ شماریات کو جلد ہدایات جاری کرنے والے ہیں کہ وہ عوامی فلاح و بہبود کے اعداد و شمار کو اکھٹا کرنے کا کوئی مثبت طریقہٴ کار وضح کرے۔ اس بات کے قوی امکانات ہیں کہ وزیر اعظم کی ہدایت پر عوامی فلاح و بہبود کا مسرت انڈیکس ایک دو ماہ میں شروع نہیں ہو سکے گا۔ اس کے لئے جو کلیہ ترتیب دیا جائے گا اس کے لئے یقینی طور پر تھوڑا زیادہ وقت درکارہو گا۔

ماہرین کا خیال ہے کہ اگر برطانوی حکومت عوامی فلاح و بہبود کے ممکنہ مسرت انڈیکس میں سماجیات، نفسیات اور ماحولیات کو شامل کرنے کی خواہشمند ہے تو اس کے لئے مختلف اداروں سے وابستہ ماہرین اقتصادیات و ماحولیات کے علاوہ سماجی و نفسیاتی رویوں کے ایکسپرٹ بھی درکار ہوں گے۔ اقتصادیات میں خاص طور پر ایسے ماہرین کو لیا جا سکتا ہے جو ویلفیئر اکنامکس سے وابستہ ہوں گے۔

حکومت اس انڈیکس کے ذریعے یقینی طور پر یہ جاننا چاہتی ہے کہ برطانوی عوام اقتصادی و

Models auf der London Fashion Week

لندن کا ایک فیشن شو: اشرافیہ کا خاص اور پسندیدہ شو ہوتا ہے

حکومتی پالیسیوں کے سائے میں کسی طرح کے سماجی و نفسیاتی رویوں کو فروغ دیتے ہیں اور یہ کس طور مثبت یا منفی ہو سکتے ہیں۔ ان کے مثبت اور منفی ہونے سے ہی مجموعی عوامی رویے کا احساس حکومت کو ہو سکے گا۔

برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون کا خیال ہے کہ مستقبل میں مسرت انڈیکس ہی حکومت کی بنیادی پالیسی سازی کا مرکزہ ہو۔ ماہرین کا خیال ہے کہ اس انڈیکس کے نتائج ہو سکتا ہے کہ کیمرون حکومت یا جو بھی حکومت وقت ہو اس کو پسند نہ آئیں کیونکہ حکومتی پالیسی کے ساتھ عوامی رائے کا متفق ہونا لازمی نہیں ہوتا۔

کینیڈا کی حکومت بھی ایسے ہی انڈیکس کو شروع کرنے کے امکانات کا جائزہ لے رہی ہے۔ اسی طرح فرانس کے صدر نکولا سارکوزی نے گزشتہ برس اس خواہش کا اظہار کیا تھا کہ وہ عوامی رویوں پر مبنی کوئی پلان شروع کرنا چاہتے ہیں جس سے حاصل شدہ اعداد و شمار سے ملک کی مجموعی اقتصادی حالت پر مسلسل نگاہ رکھی جا سکے لیکن سارکوزی کو اندرون ملک کئی پالیسیوں پر عوامی ناپسندیگی کا سامنا ہے۔

اگر برطانیہ میں مسرت انڈیکس کی شروعات ہو جاتی ہے تو اس لحاظ سے وہ دنیا کا پہلا ملک بن جائے گا جہاں حکومت، عوام کی مجموعی مسرت اور فلاح و بہبود کی سرکاری سطح پر نگرانی کر سکے گی۔

رپورٹ: عابد حسین

ادارت: شادی خان سیف

DW.COM

ویب لنکس