1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

برطانیہ میں پورن ویب سائٹس پر کنٹرول کا نیا منصوبہ

برطانیہ میں اٹھارہ برس سے کم عمر کے نابالغوں کے لیے فحش ویب سائٹ تک رسائی مشکل بنانے کی منصوبہ بندی کا سلسلہ جاری ہے۔ اس سلسلے میں لندن حکومت ایک نئے منصوبے پر اگلے برس سے عمل شروع کر دے گی۔

برطانوی حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ اپریل سن 2018 سے پورن ویب سائٹس تک کم عمر اور نابالغوں کی رسائی تقریباً ناممکن بنا دی جائے گی۔ اس ضمن میں فحش ویب سائٹس چلانے والوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ ویب سائٹس کھولنے پر یُوزر کی ذاتی تفصیل لینا ضروری ہو گا اور اُس کے لیے کریڈٹ کارڈ کے کوائف ظاہر کرنے ہوں گے۔

ویب سائٹس کا آٹومیٹک کنٹرول سسٹم کریڈٹ کارڈ کی تفصیلات چیک کرنے کے بعد یُوزر کو اجازت دے گا کہ وہ ویب سائٹ کے مزید صفحات کی جانب بڑھ سکے۔

آرٹ اور فحاشی کے درمیان ایک واضح لکیر کھینچنے کی ضرورت ہے

پاکستان میں ’فحش ویب سائٹس‘ کے لنکس غیرمؤثر

برطانوی حکومت نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ اس ضابطے پر عمل کرنا ضروری ہو گا اور بصورتِ دیگر ایسی ویب سائٹس پر کنٹرول رکھنے والے ادارہ ویب سائٹ آپریٹر پر جرمانہ عائد کرے گا۔

لندن حکومت کی جانب سے یہ نہیں بتایا گیا کہ اس صورت میں جرمانے کا حجم کتنا ہو گا۔ ایسی ویب سائٹس کے خلاف تحریک چلانے والے  گزشتہ کئی برسوں سے بھاری جرمانوں کا مطالبہ کرتے آ رہے ہیں۔

Indien Pornografie im Internet (Symbolbild) (M. Kiran/AFP/Getty Images)

برطانوی حکومت پورن ویب سائٹس کنٹرول کے نئے ضابطے متعارف کرائے گی

برطانیہ کی ایک غیر سرکاری تنظیم قومی سوسائٹی برائے تحفظِ اطفال (NSPCC) نے اس حکومتی منصوبے کی پذیرائی کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ یہ ایک عمدہ منصوبہ ہے اور اس سے کم عمری میں ذہنی نشو و نما کو تباہ کرنے کے عمل کی حوصلہ شکنی ہو سکے گی۔ اس تنظیم کے مطابق ایسی فحش ویب سائٹس کی وجہ سے نابالغوں اور نوعمر بچوں کو تباہ کن تصورات سے ہمکنار ہونا پڑتا ہے۔

دوسری جانب ذاتی حقوق کے تحفظ کے لیے جد و جہد کرنے والے بعض اداروں کا کہنا ہے کہ پورن ویب سائٹس کے پاس نوجوانوں کی تفصیلات جمع کرنے سے ایک ایسا ڈیٹا بینک اکھٹا ہو جائے گا، جس سے یہ معلوم ہو سکے گا کہ ویب سائٹ تک رسائی کرنے والے کس جنسی رجحان کے حامل ہیں اور ایسی تفصیلات حقیقت میں کسی بھی شخص کی ذاتی زندگی میں مداخلت کے مساوی ہو سکتی ہیں۔

اوپن رائٹس گروپ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر جم کِلک کا یہ بھی کہنا ہے کہ ہیکیرز ایسی تفصیلات کو پورن ویب سائٹس سے اڑانے کی کوشش کریں گے۔

DW.COM