1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

برطانیہ میں پاکستانی کمیونٹی کا خیال رکھا جائے، پاکستان

پاکستانی حکام نے برطانیہ پر زور دیا ہے کہ وہاں سکونت پذیر پاکستانی تارکین وطن کے ساتھ منصفانہ سلوک برتا جائے۔

default

پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے، جب ایسی خبریں گردش کر رہی ہیں کہ لندن حکومت پاکستانیوں کو ویزا جاری کرنے اور وہاں غیرقانونی امیگرینٹس کے ساتھ امتیازی سلوک روا رکھے ہوئے ہے۔

مذکورہ رپورٹوں کے بعد پاکستانی وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے جعمرات کو اسلام آباد میں برطانوی ہائی کمشنرایڈم ٹامسن سے ملاقات کی۔ پاکستانی وزیرخارجہ نے ایڈم ٹامسن کے ساتھ اپنی خصوصی گفتگو میں برطانیہ میں مقیم پاکستانی کمیونٹی کے مسائل پرروشنی ڈالی۔

اس سے قبل یو۔ کے بارڈرایجسنی کے چیف انسپیکٹر جان وائن نے تسلیم کیا تھا کہ پاکستان سے برطانوی ویزے کے حصول کو مزید مشکل بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ برطانوی ویزے کے حصول کے لئے خلیجی ممالک کی نسبت پاکستانی شہریوں کو زیادہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ جان وائن نے پاکستان میں ویزہ دفتر کی کارکردگی اور طریقہ کار کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔

پاکستانی وزرات خارجہ کی طرف سے جاری کئے گئے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ شاہ محمود قریشی نے برطانوی حکومت کو زور دے کرکہا ہے کہ وہ برطانیہ میں موجود پاکستانی نژاد شہریوں کے خلاف بغیر ابتدائی تحقیق کے کوئی ایکشن نہ لے،’ پاکستان یہ توقع رکھتا ہے کہ برطانوی حکومت، برطانیہ میں مقیم پاکستانی نژاد افراد کے حقوق اور فلاح کا خیال رکھے گی۔‘

اس نئے تنازعہ کے بیچ ایسی خبریں بھی موصول ہو رہی ہیں کہ برطانیہ میں موجود غیر قانونی پاکستانی امیگرینٹس کو خصوصی طور پر گرفتار کیا جا رہا ہے۔ ان خبروں کے بعد برطانیہ میں تعینات پاکستانی ہائی کمشنر کو بھی یہ ہدایات کردی گئی ہیں کہ وہ وہاں پاکستانیوں کے حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لئے مناسب اقدامات اٹھائیں۔

برطانوی ویزے کے حصول کے لئے جمع کروائی جانے والی درخواستوں کی تعداد کے اعتبار سے پاکستان دنیا بھر میں چوتھے نمبر پر شمارکیا جاتا ہے۔ خیال رہے کہ گزشتہ دو سالوں سے سکیورٹی کی مخدوش صورتحال کے نتیجے میں ویزہ جاری کرنے کے لئے زیادہ تر فیصلہ سازی برطانیہ میں ہی ہوتی ہے۔

رپورٹ: عاطف بلوچ

ادارت: عابد حسین

DW.COM

ویب لنکس