1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

برطانیہ میں نیا متنازعہ قانون منظور، ’ہر کسی کی جاسوسی‘ ممکن

برطانوی پارلیمان نے ایک نئے لیکن بہت متنازعہ قانون کی منظوری دے دی ہے، جس کے تحت ریاستی اور پبلک سیکٹر کے اہلکار عملاﹰ ’ہر کسی کی جاسوسی‘ کر سکیں گے۔ اس قانون کے تحت ہر شہری کا انٹرنیٹ ریکارڈ حکام کی رسائی میں ہو گا۔

برطانوی دارالحکومت لندن سے ہفتہ چھبیس نومبر کو ملنے والی نیوز ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس کی رپورٹوں کے مطابق کسی بھی جدید معاشرے میں ریاستی اداروں کی طرف سے عام شہریوں کی نگرانی کے عمل کے لیے ’ہر جگہ نظر رکھے والے بِگ برَدر یا بڑے بھائی‘ کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے۔ اس سلسلے میں برطانیہ میں اب ہوا یہ ہے کہ وہاں ’بڑا بھائی اور بھی بڑا‘ ہو گیا ہے۔

تیس سالہ روسی، دنیا کا خطرناک ترین ہیکر

’’برطانوی قانون، انسانی حقوق سے مطابقت نہیں رکھتا‘‘


برطانیہ میں فون ہیکنگ: اسکینڈل اور بھی وسیع

اس متنازعہ قانون کے مسودے پر سیاسی بحث کئی ماہ تک جاری رہی۔ لیکن پھر لندن میں ملکی پارلیمان نے اس کی منظوری دے ہی دی۔ ایسوسی ایٹڈ پریس نے لکھا ہے کہ اس نئے قانون کے تحت برطانیہ میں پولیس سے لے کر ملکی خفیہ اداروں تک اور فوڈ انسپکٹروں اور فائر بریگیڈ کے کارکنوں سے لے کر محکمہ ٹیکس کے انسپکٹروں تک کو یہ اختیار حاصل ہو جائے گا کہ وہ کسی بھی عام شہری کی انٹرنیٹ پر مصروفیات یا براؤزنگ تفصیلات کے ریکارڈ تک رسائی حاصل کر سکیں گے۔

ایسا اس طرح ممکن ہو سکے گا کہ برطانیہ میں تمام ٹیلی کوم کمپنیوں کو اس بات کا پابند بنا دیا گیا ہے کہ وہ ہر صارف کی انٹرنیٹ پر سرگرمیوں کا مکمل ریکارڈ کم از کم بھی ایک سال تک محفوظ رکھنے کی پابند ہوں گی۔

اس کا ایک ممکنہ نقصان یہ ہو گا کہ اول تو ہر ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی کو اپنے صارفین کی آن لائن سرگرمیوں کا کم از کم ایک سال تک کا مکمل ریکارڈ رکھنا ہو گا جو تکنیکی طور پر ایک بہت مہنگا اور پیچیدہ کام ہو گا اور دوسرے یہ کہ اس طرح وجود میں آنے والا ڈیٹا بیس خطرے سے خالی بھی نہیں ہو گا۔

Äthiopien Addis Abeba Universität Kommunikation Internetsperre (DW/J. Jeffrey)

ماہرین کے مطابق ایسے کسی بھی ڈیٹا بیس کو اس کے افشاء اور ممکنہ ہیکرز کے ہاتھ لگ جانے سے بچانا بھی کافی مشکل ثابت ہو گا

ماہرین کے مطابق ایسے کسی بھی ڈیٹا بیس کو اس کے افشاء اور ممکنہ ہیکرز کے ہاتھ لگ جانے سے بچانا بھی کافی مشکل ثابت ہو گا اور اخلاقی طور پر  عام صارفین اس لیے بھی بے چین ہوں گے کہ وہ چاہے انٹرنیت تک رسائی اپنے دفتر، جائے رہائش یا خواب گاہ سے حاصل کریں، ان کی آن لائن مصروفیات کی ہر قسم کی تفصیلات کا کسی تیسرے کی دسترس میں ہونا کسی بھی فرد کے لیے باعث اطمینان نہیں ہو سکتا۔

اس بل کو تفتیشی اختیارات کے مسودہ قانون یا ’انویسٹی گیٹری پاورز بل‘ کا نام دیا گیا ہے، جو برطانوی پارلیمان میں ایک سال سے بھی زائد عرصے تک جاری رہنے والی بحث کے بعد منظور کیا گیا۔

انٹرنیٹ کے موجدوں میں شمار ہونے والے معروف سائنسدان برنرز لی نے اس قانون کی منظوری کے بعد ٹوئٹر پر اپنے ایک پیغام میں اس کی منظوری کے دنوں کو ’سیاہ، بہت سیاہ دنوں‘ کا نام دیا ہے۔

DW.COM