1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

برطانیہ میں نجی طیارہ تباہ، بن لادن کے خاندان کے افراد ہلاک

برطانیہ میں سعودی سفارتخانے نے بتایا ہے کہ جنوبی انگلینڈ میں ایک چھوٹے پرائیوٹ طیارے کی تباہی کے نتیجے میں اس میں سوار اور مارے جانے والے افراد میں القاعدہ کے سابق رہنما اسامہ بن لادن کے خاندان کے افراد بھی شامل ہیں۔

سعودی حکومت نے بتایا ہے کہ برطانیہ میں ایک چھوٹے طیارے کی تباہی کے اس واقعے میں القاعدہ کے سابق رہنما اسامہ بن لادن کے خاندان کے کچھ افراد مارے گئے ہیں۔ برطانیہ میں سعودی عرب کے سفیر نے ہلاک شدگان کی شناخت ظاہر کیے بغیر بتایا کہ یہ ہلاکتیں جنوبی انگلینڈ میں کل جمعے کے روز ایک چھوٹے پرائیویٹ جیٹ طیارے کی تباہی کے نتیجے میں ہوئیں۔

برطانوی حکام کے مطابق اس حادثے میں کُل چار افراد مارے گئے۔ بتایا گیا ہے کہ سعودی عرب میں رجسٹرڈ Phenom 300 طرز کا یہ جیٹ جمعے کے دن جنوبی انگلینڈ میں واقع کاروں کے ایک نیلام گھر کے اوپر گر کر تباہ ہوا۔ پولیس کے مطابق اس حادثے کے نتیجے میں زمین پر موجود افراد میں سے کوئی ہلاک نہیں ہوا۔

بتایا گیا ہے کہ کریش ہونے کے بعد اس طیارے کو آگ لگ گئی تھی، جسے امدادی ٹیموں نے بجھایا۔ مقامی پولیس کے مطابق اس طیارے میں ایک پائلٹ اور تین دیگر افراد سوار تھے۔ برطانوی میڈیا کے مطابق حادثے کا شکار ہونے والا یہ طیارہ اطالوی شہر میلان کے ہوائی اڈے سے اڑا تھا اور اس کی منزل برطانیہ میں Blackbushe کا بہت چھوٹا سا ہوائی اڈہ تھا۔

اسامہ بن لادن کا وسیع تر خاندان سعودی عرب کا ایک بہت بڑا کاروباری خاندان ہے، جو سعودی معاشرے میں نمایاں حیثیت کا حامل ہے۔ یہ امر اہم ہے کہ جب ریاض حکومت نے دہشت گردانہ کارروائیوں میں ملوث ہونے پر اسامہ بن لادن کی سعودی شہریت منسوخ کی تھی تو اس کے رشتہ داروں نے بھی اسامہ بن دلان سے ترک تعلق کر لیا تھا۔

Osama Bin Laden Porträt

اسامہ بن لادن کو پاکستانی شہر ایبٹ آباد میں ہلاک کیا گیا تھا

برطانیہ میں تعینات سعودی سفیر نے اس حادثے پر محمد بن لادن کے بیٹوں اور دیگر رشہ داروں سے تعزیت بھی کی ہے۔ تاہم عوامی سطح پر ہلاک شدگان کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی۔ محمد بن دلان اسامہ بن لادن کے والد تھے اور وہ بھی 1967ء میں سعودی عرب ہی میں ایک چھوٹے طیارے کے حادثے میں ہلاک ہو گئے تھے۔

لندن میں سعودی سفارتخانے کے جاری کردہ ایک بیان کے مطابق ریاض حکومت لندن حکومت کے ساتھ مل کر اس حادثے کی وجوہات جاننے کی کوشش کرے گی۔ علاوہ ازیں سعودی حکومت ہلاک شدگان کی میتوں کو ان کے آبائی شہروں تک پہنچانے میں بھی تعاون کرے گی۔