1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

برطانیہ میں مسلمانوں سے نفرت کے ماحول کی وجوہات

برطانوی مسلمانوں کی اکثریت کے خیال میں برطانیہ میں مسلمانوں کے خلاف پائے جانے والے نفرت کے ماحول کی وجوہات میں سے بےسمتی کی شکار حکومتی پالیسیاں اور متعصبانہ میڈیا رپورٹنگ سب سے اہم ہیں۔

لندن سے بدھ گیارہ نومبر کے روز موصولہ جرمن نیوز ایجنسی ڈی پی اے کی رپورٹوں کے مطابق یہ بات برطانوی دارالحکومت میں قائم انسانی حقوق کی ایک تنظیم کی طرف سے کرائے گئے ایک نئے جائزے میں سامنے آئی ہے۔ اس تنظیم کا نام اسلامک ہیومن رائٹس کمیشن ہے، جو اسی بارے میں اپنی ایک تفصیلی رپورٹ اگلے ہفتے شائع کرنے والی ہے۔

ڈی پی اے نے لکھا ہے کہ اس جائزے کے نتائج کے مطابق برطانیہ میں مسلمانوں کی روزمرہ کی زندگی ان کے ساتھ زیادتیوں، امتیازی رویوں اور پرتشدد واقعات سے عبارت ہے۔ اس جائزے کے دوران 1782 برطانوی مسلمانوں سے ان کی انہیں درپیش جارحانہ رویوں اور امتیازی برتاؤ کے بارے میں رائے دریافت کی گئی۔

اسلامک ہیومن رائٹس کمیشن نے کہا ہے کہ جائزے کے نتائج سے نہ صرف مسلم برادری کے ساتھ سلوک کے حوالے سے تکلیف دہ حقائق کی عکاسی ہوتی ہے بلکہ یہ بھی ثابت ہو گیا ہے کہ نسلی اور مذہبی بنیادوں پر منافقت اور دوہرے معیارات کی صورت میں بھی مسلمانوں کو اپنے گھیراؤ کی سی صورت حال کا سامنا ہے۔

اس رپورٹ کا عنوان ہے، ’نفرت کا ماحول: برطانیہ میں مسلمانوں کے لیے معمول کی نئی صورت حال‘۔ رپورٹ کے مطابق یورپی یونین کے رکن اس ملک میں مسلمانوں کو اپنے خلاف ’زبانی زیادتیوں، امتیازی رویوں اور جسمانی تشدد کی بڑھتی ہوئی صورت حال‘ کا سامنا ہے۔

اس جائزے میں 80 فیصد رائے دہندگان نے کہا کہ انہوں نے ذاتی طور پر اس بات کا مشاہدہ کیا کہ کسی طرح مختلف مسلمانوں کو ’اسلاموفوبیا‘ یا اسلام سے خوف کی وجہ سے نشانہ بنایا گیا۔ 2010ء میں ایسے ہی ایک جائزے میں ’اسلاموفوبیا‘ کا ذاتی مشاہدہ کرنے والے رائے دہندگان کی شرح 50 فیصد تھی، جو اس مرتبہ بڑھ کر 80 فیصد ہو گئی۔

اسی طرح 56 فیصد مسلمانوں نے کہا کہ انہیں ذاتی طور پر مسلمان ہونے کی وجہ سے گالیاں سننا پڑیں جبکہ 18 فیصد نے یہ بھی کہا کہ انہیں نفرت کے اس ماحول کے باعث جسمانی حملوں کا نشانہ بھی بننا پڑا۔

اس رپورٹ کے مصنفین نے کہا ہے کہ برطانیہ میں مسلمانوں کے خلاف ’نفرت کے اس ماحول‘ کو خاص طور پر ’غلط سمت میں جانے والی‘ سرکاری پالیسیوں اور میڈیا کے اس متعصبانہ رویے سے حوصلہ ملا ہے، جس کے تحت مسلمانوں کی ’دوسروں‘ کے طور پر شناخت کراتے ہوئے ان کے خلاف امتیازی رویوں کو جائز قرار دینے کی کوشش کی جاتی ہے۔

رپورٹ کے مصنفین میں سے ایک آرزو میرعلی نے برطانوی نشریاتی ادارے کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا، ’’ہمیں اس وقت جس چیز کی اشد ضرورت ہے، وہ کلچر کی تبدیلی ہے۔‘‘ انہوں نے کہا، ’’ہمیں ایک ایسے ماحول کا سامنا ہے، جس میں مسلمانوں میں یہ احساس پایا جاتا ہے کہ ان پر شک کیا جا رہا ہے، اور یہ کہ ان کے لیے زندگی زیادہ سے زیادہ مشکل ہوتی جا رہی ہے۔‘‘

DW.COM