1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

برطانیہ میں لاکھوں ملازمین کی ایک روزہ ہڑتال

برطانوی وزیر ڈیوڈ کیمرون کے بچتی پلان کے خلاف برطانیہ کے لاکھوں ملازمین نے ایک روزہ ہڑتال میں شرکت کی۔ ہڑتالی حکومت کی توجہ اس کی بچتی پالیسیوں کی جانب مبذول کروانے کی کوشش میں تھے۔

default

برطانیہ میں کی جانے والی ایک روزہ ہڑتال میں طبی عملے کے ساتھ ہنگامی امداد کے اداروں کے ملازمین اور اساتذہ کے ہمراہ وزیر اعظم کے دفتر کے کچھ ملازمین نے بھی حصہ لیا۔ اس ہڑتال کو برطانوی تاریخ میں تقریباً 32 سالوں کے بعد کی جانے والی بڑی ہڑتال قرار دیا گیا ہے۔ ہڑتال خاصی متاثر کن تھی مگر مبصرین کے مطابق اس کا حکومت کے بچتی پلان پر کوئی اثر نہیں ہوا۔ اس ہڑتال کو یونی سن (UNISON) ٹریڈ یونین نے پلان کیا تھا۔ یہ ٹریڈ یونین ہیلتھ سیکٹر کے دس لاکھ افراد کی نمائندہ ہے۔

برطانوی ٹریڈ یونینوں کے مطابق ان کی ہڑتال میں بیس لاکھ ملازمین نے حصہ لیا۔ سن 1979 کے بعد ہونے والی یہ سب سے بڑی ہڑتال خیال کی گئی۔ پولیس کے مطابق ہڑتال کے موقع پر لندن پرسکون رہا البتہ کچھ ہڑتالیوں نے ایک سرکاری دفتر پر دھاوا بولا اور نتیجتاً اکیس افراد کو حراست میں لیا گیا۔ پولیس کے مطابق کل 75 افراد کو گرفتار کیا گیا۔

ہڑتال میں شریک افراد کا مؤقف ہے کہ وہ برسوں ملازمت کے بعد پنشن کے حقدار ٹھہرتے ہیں۔ اس پنشن کے لیے وہ ماہانہ بنیادوں پر حکومت کو اپنی تنخواہ سے باقاعدہ رقم بھی فراہم کرتے ہیں۔ حکومت ریٹائرمنٹ کی حد میں اضافہ کر کے اس پنشن کی مد میں کمی کا ارادہ رکھتی ہے۔ برطانوی حکومت 967 ارب پاؤنڈ کے مساوی قرضوں کے بوجھ تلے دبی ہوئی ہے۔

Streik in Großbritannien gegen Rentenpläne

بدھ کی ہڑتال میں لاکھوں ملازمین شریک تھے

برطانیہ میں افراط زر کی شرح پانچ فیصد کے قریب ہے اور حکومت سن 2014 میں تنخواہوں میں صرف ایک فیصد کا اضافہ کرنا چاہتی ہے۔ ہڑتالیوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ مہنگائی کے تناظر میں یہ اضافہ انتہائی قلیل ہے۔ برطانیہ کی مرکزی ٹریڈ یونین یونی سن کے صدر ایلینور اسمتھ کا کہنا ہے کہ حکومت چاہتی ہے کہ لوگ زیادہ کام کریں، تنخواہوں سے کٹوتیاں بھی حکومتی خزانے میں زیادہ جمع کروائیں اور انجام کار پنشن کی مد میں انہیں کم رقم دی جائے۔ حکومت ریٹائرمنٹ کی عمر 67 برس کرنے کو بھی پلان کیے ہوئے ہے۔وزیر خزانہ اوسبورن نے اس اندیشے کا اظہار کیا ہے کہ سن 2015 سے حکومت کے وصولی اور ادائیگیوں کا فرق نو ارب پاؤنڈ ہو سکتا ہے۔

دوسری جانب وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نے اپنی حکومت کے بچتی پلان کے فیصلے کی ایک بار پھر تائید کی ہے۔ پارلیمنٹ میں خطاب کرتے ہوئے کیمرون نے کہا کہ وہ ہڑتال کے حامی نہیں ہیں۔ کیمرون کے مطابق ان کی حکومت اسکولوں کو بند نہیں دیکھنا چاہتی اور سرحدوں پر مسائل کو ابھرتے ہوئے بھی دیکھنا نہیں چاہتی۔ انہوں نے ذمہ دارانہ فیصلوں کو جاری رکھنے کے مصمم ارادے کا اظہار بھی کیا۔

رپورٹ: عابد حسین

ادارت: ندیم گِل

DW.COM

ویب لنکس