1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

برطانیہ میں فون ہیکنگ: اسکینڈل اور بھی وسیع

سابق برطانوی وزیر اعظم گورڈن براؤن کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ دوران اقتدار وہ غصے میں اپنا موبائل فون پٹخ دیتے تھے لیکن اب وہ بھی یہ شکایت کرتے ہیں کہ ان کا موبائل فون بھی ہیک کر لیا گیا تھا۔

default

برطانیہ میں گورڈن براؤن وہ پہلے سینئر سیاستدان ہیں، جن کا نام اب اس اسکینڈل کا حصہ بن گیا ہے، جس میں ملکی اخبارات کی طرف سے اہم سیاسی اور سماجی شخصیات کے علاوہ شاہی خاندان کے افراد کے موبائل فون ہیک کر کے غیر قانونی طور پر ان کی وائس میلز سنی گئی تھیں۔

برطانیہ میں ’فون ہیکنگ‘ کا یہ اسکینڈل سن 2007 میں سامنے آیا تھا۔ اس کے اہم ترین شکار گزشتہ ہفتے اینڈی کولسن بنے تھے، جو وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون کی حکومت میں دس ڈاؤننگ سٹریٹ کے شعبہ کمیونیکیشن کے انچارج تھے۔ انہیں اسی اسکینڈل کی وجہ سے اپنے عہدے سے استعفیٰ دینا پڑ گیا تھا۔

اینڈی کولسن انگلش روزنامے نیوز آف دی ورلڈ کے ایک سابقہ ایڈیٹر ہیں۔ انہوں نے یہ اعتراف کر لیا تھا کہ برطانیہ میں ٹیلی فون ہیکنگ سے متعلق اسکینڈل اور اہم سیاسی شخصیات کے اس اسکینڈل سے متاثر ہونے کی وجہ سے ان کے لیے برطانوی وزیر اعظم کی سرکاری رہائش گاہ کے شعبہ کمیونیکیشن کے انچارج کے طور پر اپنی ذمہ داریاں انجام دیتے رہنا ناممکن ہو گیا تھا۔

Russland Medien Internet Redaktion von Garri Kasparow in Moskau

یہ کام بھی اینڈی کولسن کی ایڈیٹر شپ ہی کے عرصے میں ہوا تھا کہ سن 2003 سے لے کر 2007 تک برطانوی سنڈے نیوز پیپر، نیوز آف دی ورلڈ پر پہلی مرتبہ یہ الزامات بھی لگائے گئے تھے کہ اس نے غیر قانونی طور پر شاہی خاندان کے ارکان، شہزادہ ولیم، شہزادہ ہیری اور ان کے رفقاء کے ٹیلی فون ہیک کیے تھے۔

برطانیہ میں اس ٹیلی فون ہیکنگ سے متاثرہ اہم شخصیات کی نمائندگی کرنے والے ایک وکیل مارک لیوس کا کہنا ہے کہ ان سے رابطہ کرنے والی ایسی شخصیات کی تعداد مسلسل زیادہ ہوتی جا رہی ہے، جو موبائل فون کے ذریعے اپنے خلاف کی جانے والی جاسوسی کی وجہ سے اب عدالتی کارروائی کے منصوبے بنا رہے ہیں۔

اس فون ہیکنگ سے صرف گورڈن براؤن، شہزادہ ولیم اور شہزادہ ہیری ہی متاثر نہیں ہوئے بلکہ ان شخصیات میں ایل میکفرسن نامی ماڈل، لبرل ڈیموکریٹ سیاستدان سائمن ہیوز، فٹ بال کے کھیل کی مشہور شخصیت گورڈن ٹیلر اور برطانوی اداکارہ سینا ملر بھی شامل ہیں۔

انگلینڈ میں لابی کرنے والے ایک معروف ماہر میکس کلفورڈ کا دعویٰ ہے کہ ان کا موبائل فون بھی خفیہ طور پر سنا گیا تھا۔ ان کی رائے میں اگر ان کے ٹیلی فون کی ہیکنگ سے متعلق تمام حقائق پولیس تک پہنچ گئے، تو ملک میں جیسے ایک آتش فشاں پھٹ پڑے گا۔

انگلیند میں ٹیلی فون ہیکنگ کے ان واقعات میں زیادہ تر الزام نیوز آف دی ورلڈ نامی روزنامے پر ہی لگایا جارہا ہے، جو کہ بین الاقوامی سطح پر ذرائع ابلاغ کی ایک بہت بڑی کاروباری شخصیت روپرٹ مرڈوک کی ملکیت کئی برطانوی میڈیا اداروں میں سے ایک ہے۔

مرڈوک، جو نیوز انٹرنیشنل گروپ نامی میڈیا ایمپائر کے مالک ہیں، اس بات پر بہت خفا ہیں کہ برطانیہ میں ان کے کاروباری اداروں کی اعلیٰ شخصیات بظاہر نیوز گروپ کی میڈیا کمپنیوں کے خلاف ہیکنگ سے متعلق الزامات کا مناسب تدارک کرنے میں ناکام رہی ہیں۔

رپورٹ: عصمت جبیں

ادارت: مقبول ملک

DW.COM

ویب لنکس