1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

برطانیہ میں جہادی دلہنیں، ڈیٹنگ اور شناخت

صابرينا محفوظ نے پاکستان سے لے کر فلسطين تک کی برطانيہ ميں مقيم متعدد خواتين کو جمع کيا ہے تاکہ ان کی پس پردہ زندگيوں پر روشنی ڈالی جا سکے۔ وہ برطانوی مسلم خواتین کے بارے ميں پائے جانے والے تاثر کو بدلنا چاہتی ہيں۔

Sabrina Mahfouz Poetin (Imago/ZUMA Press)

لندن میں ہی پیدا ہونے والی شاعرہ اور ڈرامہ نگار صابرینہ محفوظ

لندن میں ہی پیدا ہونے والی شاعرہ اور ڈرامہ نگار صابرینا محفوظ اپنے نئے پروجیکٹ میں بائیس ایسی مسلمان خواتین کو منظر عام پر لائی ہیں جو مغربی دنیا میں مسلمان خواتین کے حوالے سے پائی جانے والی غلط فہمیوں کو دور کرنا چاہتی ہیں۔ صابرینہ محفوظ کا تھامسن روئٹرز فاؤنڈیشن سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا، ’’برطانیہ میں ایک مسلمان کے حوالے سے تنگ نظری پائی جاتی ہے، وہ کیسا دکھائی دیتا ہے، اس کا ثقافتی ورثہ کیا ہو سکتا ہے، وہ سوچتا کیسے ہے؟ میں جس طرح بھی ممکن ہو اس تنگ نظری کو چیلینج کرنا چاہتی ہوں۔‘‘

صابرینا کا اس حوالے سے مزید کہنا تھا، ’’انتہائی اسلاموفوبیا کے اس دور میں جتنا زیادہ ادب مسلم خواتین سے متعلق تباہ کن بیانیے کو چیلینج کرے اتنا ہی زیادہ بہتر ہے۔‘‘

برطانیہ کی پینسٹھ ملین آبادی میں تین فیصد سے زائد مسلمان ہیں اور حکومتی اعداد و شمار کے مطابق ان میں سے زیادہ تر لندن میں مقیم ہیں۔ پولیس کے مطابق مسلمان عسکریت پسندوں کی طرف سے کیے جانے والے حملوں کے بعد سے مسلمانوں کے خلاف نہ صرف نفرت بلکہ ان کے خلاف ہونے والے حملوں میں بھی اضافہ ہوا ہے۔

صابرینا محفوظ کے مطابق وہ برطانوی معاشرے کو مسلمان خواتین کی شاعری، بین الاقوامی ایوارڈ حاصل کرنے والی ناول نگار لیلا ابو لیلا اور کاملہ شمسی کے افسانوں کے بارے میں بتانا چاہتی ہیں، ابھرتے ہوئے نئے ٹیلینٹ اور نئے مصنفین کے بارے میں بتانا چاہتی ہیں۔

اسی طرح خاتون صحافی ٹریسکا حامد مسلمان خواتین میں پائی جانے والی مایوسی، اسلامی ڈیٹنگ ایپس کے ذریعے محبت کی تلاش، تصاویر کے تبادلے اور آن لائن چیٹ جیسے موضوعات کو منظر عام پر لاتی ہیں۔

یورپ میں اسلاموفوبیا تیزی سے بڑھتا ہوا

سوڈانی نژاد اسما البدوی کی نظمیں برطانیہ میں بسنے والے مسلمانوں کی دوہری شناخت پر روشنی ڈالتی ہیں۔ یہ ستائیس سالہ اسما ہی تھیں کہ جن کی کوششوں سے انٹرنیشنل باسکٹ بال فیڈریشن نے خواتین کھلاڑیوں کو حجاب پہن کی کھیلنے کی اجازت دی ہے۔

برطانیہ کی سب سے بڑی اسلامی آرگنائزیشن مسلم کونسل کے مطابق زیادہ تر مسلمان نوجوان برطانیہ میں پیدا ہوئے ہیں اور وہ خود کو برطانوی شناخت ہی دیتے ہیں۔

مسلمانوں کے خلاف پائے جانے والے تعصب میں بنیادی ہدف خواتین ہی ہیں۔ ایسے واقعات پر نگاہ رکھنے والی ایک برطانوی تنظیم ’ٹیل ماما‘ کے اعداد و شمار کے مطابق تعصب پر مبنی ہر دس میں سے چھ واقعات خواتین کے خلاف ہی ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ انہیں اسلامی طرز کا لباس اور حجاب وغیرہ پہننے پر بھی امتیازی سلوک کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔

DW.COM

ملتے جلتے مندرجات