1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

برطانیہ میں جونیئر ڈاکٹروں کی ملک گیر ہڑتال

برطانیہ میں کئی ہزار جونئیر ڈاکٹروں نے ہڑتال کا اعلان کرتے ہوئے ہسپتالوں سے واک آؤٹ کیا ہے۔ اِس ہڑتال کی وجہ سے سارے برطانیہ میں ہسپتالوں کا نظام شدید متاثر ہوا ہے۔

فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کی ایک رپورٹ کے مطابق برطانیہ میں ڈاکٹر صرف ایمرجنسی میں اپنی خدمات سر انجام دے رہے ہیں ۔ ہڑتال کی وجہ سےکئی ہزار معمول کے آپریشن اور ٹیسٹوں کو منسوخ کر دیا جائے گا۔ یہ ہڑتال چوبیس گھنٹوں کے لیے کی گئی ہے۔ گزشتہ چالیس برسوں میں جونیئر ڈاکٹروں کی یہ پہلی ہڑتال ہے۔ ہڑتال کی منتظم تنظیم برٹش میڈیکل ایسوسی ایشن ہے۔

برطانیہ میں پچاس ہزار سے زائد جونئیر ڈاکٹر ہیں جو سارے ملک میں ڈاکٹروں کی مجموعی تعداد کا ایک تہائی ہے۔ ہڑتال کی وجہ حکومت کی جانب سے پیش کیا گیا ایک نیا کنٹریکٹ ہے۔ اِس کنٹریکٹ کے حوالے سے حکومتی مؤقف ہے کہ یہ رات کے گھنٹوں میں اور ویک اینڈز پر ہیلتھ کیئر کی مجموعی صورت حال کو بہتر کرے گا جب کہ ڈاکٹروں کا خیال ہوکہ اِس کنٹریکٹ کی وجہ سے اُن کی تنخواہوں میں کمی واقع ہو گی۔

سینٹرل لندن میں واقع سینٹ پینکراس ہسپتال کے باہر کھڑی انتیس سالہ ماہر نفسیات فلورینس ڈالٹن نے اس حوالے سے کہا، ’’ نیا کنٹریکٹ منصفانہ نہیں ہے اور اِس کو تسلیم کرنے کے لیے محکمہٴ صحت کی جانب سے دباؤ ڈالا جا رہا ہے، یہ بھی اہم ہے کہ حکومت کی ’نیشنل ہیلتھ سروس‘ میں کام کرنے والے ڈاکٹر زیادہ کام کرتے ہیں لیکن ان کی قدر نہیں کی جاتی۔‘‘ خاتون ڈاکٹر فلورینس ڈالٹن کے مطابق ان مشکلات کے باعث اب کم افراد اس اہم شعبے کو اختیار کر رہے ہیں۔

پیر کو برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نے جونئیر ڈاکٹروں سے ہڑتال ختم کرنے کی اپیل کی تھی اور کہا تھا کہ اس ہڑتال کی وجہ سے نیشنل ہیلتھ سروس کو مشکلات کا سامنا ہوگا۔ ڈیوڈ کیمرون کی حکومت کا کہنا ہے کہ ہفتے کے سات دن طبی سہولیات فراہم کرنے کے لیے اصلاحات کرنا ضروری ہے تاکہ ہفتہ وار چھٹیوں کے دوران ویسی ہی سہولیات فراہم کی جاسکیں جو ہفتے کے دوران مریضوں کو دی جاتی ہیں۔

برطانیہ کی نیشنل ہیلتھ سروس دنیا کا پانچواں بڑا آجر ہے جس کو برطانیہ سمیت عالمی سح پر قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔