1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

برطانیہ میں باصلاحیت مہاجرین کے لیے نئی زندگی شروع کرنے کا موقع

کوئی مہاجر کسی دوسرے ملک پہنچتا ہے، تو ماضی میں اس کی ہنرمندی اور دیگر صلاحتیں، عموماﹰ کسی کام کی نہیں رہتیں اور اسے نئے سرے سے اپنی زندگی شروع کرنا پڑتی ہے، مگر برطانیہ میں صورت حال مختلف ہے۔

برطانیہ میں ایک سماجی ادارے نے ہنرمند اور پیشہ ورانہ قابلیت کے حامل مہاجرین کو دیارِ غیر میں ایک بہتر زندگی شروع کرنے کے حوالے سے پروجیکٹ شروع کر رکھا ہے۔

حکما یعقوب جب دو برس قبل برطانیہ پہنچیں، تو انہیں معلوم نہیں تھا کہ نئی زندگی کی ابتدا کہاں سے کی جائے۔ سوڈان میں وہ انسانی حقوق کی ایک وکیل کے طور پر کامیاب کریئر کی حامل تھیں اور کئی سیاسی منصوبوں کے ساتھ وابستہ رہی تھیں۔

یہ ان کا شعبہء کار ہی تھی، جس کی وجہ سے وہ برطانیہ سے واپس سوڈان نہیں جا سکتیں، مگر برطانیہ میں سیاسی پناہ کی درخواست گزار کے بہ طور، وہ ایک بار پھر وہی پیشہ دوبارہ اختیار کر سکتیں ہیں، جس سے وہ اپنے آبائی ملک میں وابستہ تھیں۔

یعقوب کے بہ قول، ’’مجھے لگتا تھا میں تنہا ہو گئی ہوں۔ ایک نئی ثقافت، نیا شہر، سب کچھ ڈراؤنا سا تھا۔‘‘

Syrien Krieg IS Tel Abyad (picture-alliance/dpa/S. Suna)

جنگی تنازعات اور غربت کے شکار ممالک سے لاکھوں افراد یورپ پہنچے ہیں

ان کا مزید کہنا ہے، ’’زبان کا مسئلہ تھا۔ ثقافت کا مسئلہ تھا اور یہ بھی مسئلہ تھا کہ یہاں کیسے کام کیا جاتا ہے۔ میں نے اپنا کام شروع کرنے کی کوشش کی، مگر مجھے احساس ہو گیا کہ برطانیہ میں تو مقامی شہری بھی اپنا کام شروع کریں، تو انہیں مشکل پیش آتی ہے اور انتہائی سخت محنت کرنا پڑتی ہے۔‘‘

مگر برطانیہ میں چیٹر باکس نامی نئے سماجی ادارے کو امید ہےکہ مہاجرین کے اس طرز کے مسائل کا حل ممکن ہے۔ یہ ادارے اعلیٰ تعلیم یافتہ مہاجرین اور سیاسی پناہ کے متلاشی افراد کو اپنے ہاں ملازمت دے رہا ہے، جن میں یعقوب جیسے خواتین بھی شامل ہیں۔ اس ادارے نے شام سے تعلق رکھنے والے متعدد افراد کو بھی بہ طور لینگویج ٹیچر نوکری دی ہے۔ اس طرح یہ مہاجرین برطانیہ پہنچنے کے بعد ایک نئی زندگی شروع کرنے کی تگ و دو کی بجائے اپنی صلاحیتوں اور قابلیت کے ذریعے زندگی کا سلسلہ وہیں سے شروع کر سکتے ہیں، جیسا انہوں نے اپنے آبائی ملک میں چھوڑا تھا۔