1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

برطانیہ میں ایشیائی خواتین: گھریلو بدسلوکی کے بڑھتے واقعات

جنوبی ایشیائی ملکوں سے کسی برطانوی شہری کے ساتھ شادی کے بعد مستقل رہائش کے لئے برطانیہ منتقل ہونے والی خواتین میں سے سینکڑوں عورتوں کو یہ شکایت ہے کہ ان کے ساتھ ان کے سسرال نے گھریلو غلاموں کا ساسلوک کیا۔

default

زیادہ تر واقعات میں شادی کے بعد ترک وطن اور پھر گھریلو غلاموں کا سا سلوک

برطانیہ میں سن دو ہزار آٹھ اور نو کے دوران ایسی پانچ سو سے زائد خواتین نے اپنی شادی ناکام ہو جانے کے بعد مستقل رہائش کے اجازت ناموں کے لئے درخواستیں دیں، لیکن ان کی ایک بڑی اکثریت کو اس لئے واپس ان کے ملکوں میں بھیج دیا گیا کیونکہ وہ یہ ثابت نہ کرسکی تھیں کہ ان کے ساتھ کوئی خاندانی زیادتی یا جسمانی ظلم ہوا تھا۔

برطانوی پولیس اور غیر سرکاری سماجی تنظیموں کو اس بات پر تشویش ہے کہ یورپی یوینن کے رکن اس ملک میں خواتین سے بد سلوکی کے اکثر واقعات کی کوئی رپورٹ درج نہیں کروائی جاتی۔ اس کی زیادہ تر وجہ خاندانی دباؤ یا انتقامی کاروائی کا نشانہ بننے کے خدشات ہوتے ہیں۔ بیرون ملک سے آنے والی برطانوی شہریوں کی ایسی غیر ملکی بیویوں کو ملک میں داخلے کی اجازت دینے والے محکمے UK بارڈر ایجنسی کا کہنا ہے کہ ایسے تمام اقدامات کو یقینی بنایا جا چکا ہے، جو خواتین کے ساتھ گھریلو بدسلوکی کی روک تھام میں مدد دے سکیں۔

Buchcover Bapsi Sidhwa: The Pakistani Bride

ایک پاکستانی دلہن، بیپسی سدھوا کے ناول کا سرورق

برطانوی پولیس کے مطابق جو خواتین یہ شکایت کرتی ہیں کہ ان کے ساتھ گھریلو غلاموں کا سا سلوک کیا جاتا ہے، ان کا تعلق زیادہ تر بھارت، پاکستان اور بنگلہ دیش جیسے ملکوں سے ہوتا ہے۔ ایسی ایک خاتون نے جس کی عمر بیس اور تیس برس کے درمیان تھی، پولیس کو بتایا کہ اسے اس کی ساس نے تین سال تک شمالی انگلینڈ میں اس کے گھر میں قید رکھا۔

اس خاتون کی ساس کے خلاف قانونی کارروائی کی جا چکی ہے، تاہم اسے ابھی بھی یہ خدشہ ہے کہ اس کے سسرال کی طرف سے اس کے خلاف انتقامی کارروائی کی جا سکتی ہے۔ ایسی خواتین کو اکثر دن رات کام پر مجبور کیا جاتا ہے اور اپنی تکلیف دہ زندگی سے نجات حاصل کرنے کے لئے وہ خودکشی کی کوششیں بھی کرتی ہیں۔

برطانیہ میں گھریلو تشدد کا نشانہ بننے والی ایشیائی اور افریقی خواتین کی مدد کرنے والا ایک ادارہ قومی سطح پر کام کرتا ہے۔ اس ادارے کا نام ’امکان‘ ہے۔ ’امکان‘ کی تحقیق کے مطابق اکثر ایشیائی خواتین کے لئے اپنے ساتھ بدسلوکی کی اطلاع پولیس کو دینا تقریبا ناممکن ہوتا ہے ۔ اس کی تصدیق وہ 124 ایشیائی خواتین بھی کرتی ہیں جو اب تک پورے ملک میں خاص طور پر ایشیائی خواتین کے لئے قائم پناہ گاہوں میں رہائش اختیار کر چکی ہیں۔

Spezialbild: Monsoon Wedding, Bollywood Film aus Indien

شادی ناکام ہو جانے کی صورت میں ایسی خواتین کو اکثر ملک بدری کا دھڑکا بھی لگا رہتا ہے

کئی سماجی ماہرین کی رائے میں ایشیائی خواتین کی طرف سے اپنے خلاف بدسلوکی پر گھریلو تشدد کے خلاف آواز اٹھانا ممکن نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب وہ اپنے لئے قانونی رہائشی اجازت ناموں کے لئے درخواستیں دیتی ہیں، تو انہیں ملک بدر کر دیا جاتا ہے۔

برطانوی وزارت داخلہ کے اعداد وشمار کے مطابق دوہزار آٹھ اور دو ہزار نو میں جن شادی شدہ غیر ملکی خواتین نے ملک میں مستقل رہائش کی درخواستیں دیں، ان کی تعداد 980 بنتی تھی۔ ان میں سے صرف 440 خواتین کو برطانیہ میں رہائش کی اجازت دی گئی جبکہ 540 عورتوں کو ملک بدر کر کے واپس ان کے ملکوں میں بھیج دیا گیا۔

اس کا سبب یہ ہے کہ برطانیہ میں مروجہ قوانین کے مطابق کوئی غیر ملکی خاتون اپنی شادی کے بعد دو سال کے اندر اندر گھریلو تشدد کا شکار ہونے کی وجہ سے اگر اپنے طور پر مستقل رہائش کے اجازت نامے کی درخواست دے، تو اس کے لئے لازمی ہوتا ہے کہ اس نے اپنے خلاف بدسلوکی یا غلاموں جیسے رویے کی کسی نہ کسی سرکاری اہلکار یا اپنے ڈاکٹر کو بروقت اطلاع بھی دی ہو۔

مانچسٹر میں قائم پاکستانی تارکین وطن کے ایک مرکز کی گھریلو تشدد کے خلاف اقدامات کی کوآرڈینیٹر پروین جاوید کہتی ہیں کہ ان کے سینٹر سے رابطہ کرنے والی ایسی خواتین کی ماہانہ اوسط تعداد 20 اور 30 کے درمیان ہوتی ہے، جنہیں گھریلو تشدد اور مسلسل استحصال کا سامنا رہتا ہے اور جو اپنے لئے انصاف کی طلب گار ہوتی ہیں۔

رپورٹ : عصمت جبیں

ادارت : مقبول ملک

DW.COM