1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

برطانیہ میں اسلامی انتہا پسند قیدیوں کو الگ رکھا جائے گا

برطانوی حکومت نے کہا ہے کہ اسلامی انتہا پسند قیدیوں کو انتہائی سیکیورٹی والی جیلوں کے مخصوص سیل میں رکھا جائے گا تاکہ وہ دیگر قیدیوں کو مذہبی انتہا پسندی کی جانب مائل نہ کر سکیں۔

Großbritannien Liz Truss in London

برطانوی وزیر انصاف کے مطابق جیل حکام اور گورنرز کو انتہا پسندی کی بیخ کنی کا اختیار دیا جائے گا

برطانوی وزیر انصاف لز ٹرس نے آج برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی ریڈیو کو دیے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ وہ ایسا اس لیے کر رہی ہیں تاکہ جیلوں میں اسلامی انتہا پسند نظریے کی ترویج کی روک تھام کی جا سکے۔ ٹرس کے مطابق جیل اہلکاروں کو متعلقہ تربیت بھی فراہم کی جائے گی۔ ٹرس نے انٹرویو میں مزید کہا،’’ تاہم ایسے تخریب کار افراد بہت ہی کم تعداد میں ہیں جنہیں علیحدہ سیل میں رکھنا ہوگا۔ ایسے افراد کے لیے ہم جیلوں میں مخصوص یونٹ تعمیر کر رہے ہیں۔‘‘ مذہبی انتہا پسندانہ سوچ رکھنے والے قیدیوں سے متعلق یہ نئی پالیسی دراصل جیل کے سابق گورنر ائین ایچیسن کےجیلوں میں انتہا پسندی سے متعلق جائزے پر مبنی ہے۔ یہ جائزہ رپورٹ سوموار کے روز شائع کی جائے گی۔ ایچیسن کے مطابق جیلوں میں انتہا پسندانہ رحجانات سے نمٹنے میں اس لیے زیادہ کامیابی نہیں ہو سکی کیونکہ جیل کا عملہ خود پر نسل پرستی کی چھاپ لگنے سے خائف تھا۔

Großbritannien muslimischer Prädiger Anjem Choudary

متنازعہ برطانوی اسلام پسند مبلغ انجم چوہدری کو آئندہ ماہ سزا سنائی جائے گی

برطانوی وزیر انصاف کے مطابق جیل حکام اور گورنرز کو انتہا پسندی کی بیخ کنی کا اختیار دیا جائے گا۔ برطانیہ کی جانب سے یہ اقدام ایسے وقت میں اٹھایا جا رہا ہے جب ملک کے متنازعہ اسلام پسند مبلغ انجم چوہدری کو مسلمان برطانوی جوانوں کو اسلامک اسٹیٹ کی حمایت پر آمادہ کرنے کے جرم میں آئندہ ماہ سزا سنائی جانے والی ہے۔ دوسری جانب ناقدین کا کہنا ہے کہ مخصوص یونٹ بجائے خود اسلامی انتہا پسندی کا مرکز بن سکتے ہیں جہاں خطرناک درجے کے انتہا پسند خیالات کا تبادلہ کرسکتے ہیں اور ایک مربوط نیٹ ورک تشکیل دے سکتے ہیں۔ ان تنقید نگاروں نے اسی کی دہائی میں شمالی آئر لینڈ میں کی جانے والی کچھ غلطیوں کی مثال بھی دی ہے جہاں دونوں اطراف سے نیم فوجی قیدیوں نے جیل میں رہتے ہوئے خود کو منظم کر لیا تھا۔

DW.COM