1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

برطانیہ مہاجرین کو روکنے کے لیے دیوار کھڑی کرے گا

برطانوی وزارت داخلہ نے کہا ہے کہ وہ شمالی فرانس میں کَیلے کی بندرگاہ سے جڑی اپنی سرحد پر ایک دیوار کھڑی کرے گا تاکہ وہاں سے مہاجرین برطانیہ میں داخل نہ ہو سکیں۔

برطانوی حکام کے مطابق وہ ایک چار میٹر اونچی اور ایک کلومیٹر طویل دیوار کَیلے اور برطانیہ کی سرحد کے درمیان کھڑی کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ مارچ کے مہینے میں فرانس اور برطانیہ کے درمیان مہاجرین کے بہاؤ کو روکنے کی غرض سے طے پانے والے ایک معاہدے کی رو سے اس دیوار کی تعمیر کے اخراجات برطانوی حکومت اٹھائے گی۔ یہ دیوار کَیلے کی بندرگاہ اور چینل ٹنل (رودبار انگلستان کے نیچے سرنگ) کے درمیان پہلے سے موجود باڑ میں ایک اضافہ ہوگی۔

اس بارے میں برطانیہ کے ایک جونیئر وزیر رابرٹ گُڈوِل نے پارلیمانی کمیٹی کو بتایا، ’’ہم اس دیوار کی تعمیر جلد شروع کر دیں گے۔ ہم باڑ لگا چکے ہیں، اب اس کے ساتھ دیوار بنانا باقی رہ گیا ہے۔‘‘

تاہم برطانوی فیصلے پر اندرون ملک تنقید بھی کی جا رہی ہے۔ گرین پارٹی سے تعلق رکھنے والی ایم پی کیرولین لوکس نے دیوار کی تعمیر کے فیصلے کو ’جابرانہ‘ قرار دیا ہے۔ ’سٹیزنز یو کے‘ نامی ایک تنظیم کا کہنا ہے کہ دیوار پر رقم صرف کرنے کے بجائے حکومت کو یہ پیسہ ان مہاجر بچوں کو برطانیہ سے فرانس پہنچانے پر لگانا چاہیے جو کہ اپنے اہل خانہ سے بچھڑ گئے ہیں۔

انسانی حقوق کی ایک اور تنظیم سے تعلق رکھنے والے رچرڈ برنیٹ نے برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ یہ منصوبہ ’ٹیکس دہندگان کی رقوم کا برا استعمال‘ ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ دیوار پر رقم ضائع کرنے کے بجائے یہ وسائل مہاجرین کی آمد کے رستوں میں سلامتی کی صورت حال بہتر بنانے پر خرچ کیے جانا چاہییں۔

واضح رہے کہ اس دیوار کی تعمیر پر دو اعشاریہ سات ملین یورو یا تین قریب ملین ڈالر لاگت آئے گی۔

اس سے قبل دوسرے یورپی ممالک بھی مہاجرین کے دباؤ کو کم کرنے اور انہیں اپنے ہاں پہنچنے سے روکنے کے لیے اپنی سرحدوں پر باڑیں لگا چکے ہیں۔ اس کی ایک مثال ہنگری ہے، جس نے سربیا اور آسٹریا کی سرحد پر نئی دیواریں کھڑی کرنے کے منصوبے کا اعلان کیا ہے تاکہ بلقان کے خطے کے ممالک سے ہنگری اور وسطی یورپی ممالک تک پہنچے کی کوشش کرنے والے مہاجرین کو روکا جا سکے۔

امریکا میں ریپبلکن پارٹی کے صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ بھی میکسیکو کے ساتھ امریکی سرحد پر دیوار کھڑی کرنے کے ارادے کا اظہار کر چکے ہیں، جس پر امریکا کے بہت سے حلقوں نے انہیں ہدف تنقید بنایا ہے۔

کَیلے کے مہاجرین کیمپ میں، جو کہ ’جنگل‘ کہلاتا ہے، سات ہزار مہاجرین رہائش پذیر ہیں۔ امدادی تنظیمیں ان کی تعداد دس ہزار تک بتاتی ہیں۔ گزشتہ پیر کے روز اس علاقے کے کسانوں اور ٹرک ڈرائیوروں نے اس کیمپ کو بند کرانے کے لیے سڑکیں بلاک کر کے ایک احتجاجی مظاہرہ بھی کیا تھا۔

مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ کے شورش زدہ ممالک سے لاکھوں کی تعداد میں پناہ کے متلاشی بحیرہ روم کے ذریعے یورپ پہنچ چکے ہیں اور مزید یہاں آنے کی کوششیں کر رہے ہیں۔ زیادہ تر مہاجرین وسطی اور شمالی یورپ کے ممالک پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں، تاہم ان کی پہلی منزل جنوبی یورپی ممالک ہوتے ہیں۔