1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

برطانیہ: مسلم خواتین انگریزی سیکھیں، انتہا پسندی ختم ہو گی

برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون کا کہنا ہے کہ برطانیہ میں مسلمان عورتوں کو انگریزی زبان سکھانے کے لیے مزید اقدامات کرنے کی ضرورت ہے تاکہ وہ اپنی کمیونٹی میں امتیازی سلوک اور صنفی تفریق سے نبرد آزما ہو سکیں۔

ڈیوڈ کیمرون نے برطانوی اخبار ’دی ٹائمز‘ میں شائع ہونے والے اپنے ایک آرٹیکل میں لکھا ہے کہ اب وقت آ گیا ہے کہ ’رجعت پسند رویوں‘ کے حامل ان مٹھی بھر مسلمان مردوں کا مقابلہ کیا جائے، جو مسلمان عورتوں کی زندگیوں پر منفی طور پر اثر انداز ہو رہے ہیں۔

برطانوی وزیر اعظم نے برطانوی معاشرے سے کٹی ہوئی برادریوں کی خواتین کو انگریزی زبان سکھانے کے لیے بیس ملین برطانوی پاؤنڈ مختص کیے ہیں۔ یہ اقدامات ایسی برادریوں کے برطانوی معاشرے میں انضمام کے لیے شروع کی گئی مہم کا حصہ ہیں۔

کیمرون کا کہنا تھا کہ اعداد و شمار کے مطابق ایک لاکھ نوّے ہزار یا بائیس فیصد مسلمان خواتین ایسی ہیں، جو کئی دہائیوں سے برطانیہ میں رہنے کے باوجود بہت کم انگریزی بول سکتی ہیں جب کہ چالیس ہزار مسلمان عورتیں ایسی بھی ہیں، جو انگزیری زبان سے مکمل طور پر ناواقف ہیں۔

اس بارے میں کیمرون کا یہ بھی کہنا تھا، ’’یہ کوئی تعجب کی بات نہیں ہے کہ ساٹھ فیصد پاکستانی یا بنگلہ دیشی خواتین اقتصادی طور پر غیر فعال ہیں۔‘‘

کیمرون کا یہ بھی کہنا تھا کہ انتہا پسندی کا مسئلہ بھی معاشرتی انضمام نہ ہونے سے جڑا ہوا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مسلمان خواتین کی بیان کردہ صورت حال صنفی امتیاز اور برطانیہ کی روزمرہ زندگی سے دوری کی ایک بھیانک تصویر پیش کرتی ہے۔

برطانوی روزنامے میں لکھے گئے مضمون میں کیمرون نے یہ بھی کہا کہ ’’ہمیں رجعت پسند سوچ رکھنے والے ان چند مردوں سے نمٹنا ہو گا، جو اپنی بیویوں، بہنوں اور بیٹیوں کی زندگیوں پر منفی انداز میں اثر انداز ہو رہے ہیں۔ اور آئندہ ہمیں کبھی بھی سچ نہ کہنے اور خاموشی سے برداشت کرنے کی اجازت نہیں دینا چاہیے۔‘‘

برطانیہ کے وزیر اعظم کے مطابق برطانیہ کے معاشرے کو ’’اپنی لبرل اقدار کے فروغ کے لیے زور دینا چاہیے۔ ہمیں ان لوگوں کو بتانا چاہیے کہ ہماری ان سے کیا توقعات وابستہ ہیں، جو برطانیہ آنا چاہتے ہیں اور ہمارے ساتھ مل کر ملکی تعمیر میں حصہ لینا چاہتے ہیں۔ اور اس ضمن میں حائل رکاوٹوں کو کھلے دل اور تخلیقی صلاحیتوں کے ساتھ ختم کرنا چاہیے۔‘‘

Muslima in London

ڈیوڈ کیمرون کا کہنا ہے کہ ساٹھ فیصد پاکستانی یا بنگلہ دیشی خواتین اقتصادی طور پر غیر فعال ہیں

کیمرون کا کہنا تھا کہ اس بات کا انحصار تارکین وطن پر ہے کہ اگر وہ برطانیہ میں اپنے قیام میں توسیع چاہتے ہیں یا شہریت حاصل کرنا چاہتے ہیں تو وہ انگریزی زبان کی مہارت کو بہتر بنائیں۔

کیمرون نے مزید کہا، ’’اب ہم انہیں کہیں گے کہ اگر وہ اپنی انگریزی بہتر نہیں کریں گے تو اس سے ان کا برطانیہ میں قیام متاثر ہو سکتا ہے۔ ایسے اقدامات ان مردوں پر یہ بات واضح کر دیں گے کہ اگر وہ اپنی بیویوں کو معاشرتی انضمام سے روکیں گے تو انہیں نتائج کا بھی سامنا کرنا پڑے گا۔‘‘

DW.COM