1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

برطانیہ: مسلمانوں اور یہودیوں کے خلاف جرائم میں اضافہ

لندن میں اسلاموفوبیا اور صیہونیت کے خلاف نفرت پر مبنی جرائم میں گزشتہ برس اضافہ ہوا ہے۔ اس بارے میں پیر کو منظر عام پر آنے والے اعداد و شمار کو دنیا بھر میں رونما ہونے والے واقعات کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔

پولیس نے گزشتہ برس جولائی سے اب تک یعنی 12 ماہ کے دوران اسلامو فوبیا کی وجہ سے ہونے والے 816 حملے ریکارڈ کیے ہیں۔ سرکری ذرائع کے مطابق یہ شرح اس سے پہلے سن 2013 کے مقابلے میں قریب 70 فیصد زیادہ بنتی ہے اور اِسی برس کے 12 ماہ کے اندر ایسی 478 وارداتوں کا اندراج کیا گیا تھا۔

لندن حکومت کے سرکاری اعداد و شمار سے پتا چلا ہے کہ پچھلے سال صیہونیت دشمنی پر مبنی جرائم کے 499 واقعات پیش آئے جو سن 2013 کے مقابلے میں 93 فیصد زیادہ تھے۔

لندن کی میٹرپولیٹن پولیس کے بقول،’’ دنیا بھر میں رونما ہونے والے واقعات بھی ان جرائم میں اضافے کی وجہ ہو سکتے ہیں جبکہ اس قسم کے جرائم کے واقعات خاص طور سے اُن مقدس دنوں میں رونما ہوئے جب مسلمان اور یہودی برادری زیادہ فعال نظر آ رہی تھی‘‘۔

BdT Polizist bei Besuch Geert Wilders in London

لندن میں پولیس کا خصوصی دستہ تعینات

اسکارٹ لینڈ یارڈ کے مطابق اسلاموفوبیا اور صیہونیت دشمن جذبات سے عبارت حملوں اور وارداتوں میں اضافے کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ ان کا شکار ہونے والے افراد اب زیادہ رپورٹ درج کرواتے ہیں اوران جرائم میں ملوث افراد کی شناخت کے عمل میں پولیس پہلے سے کہیں زیادہ مستعد ہو گئی ہے۔ اسکاٹ لینڈ یارڈ کے ایک ترجمان کے بقول،’’ حالیہ دنوں میں دنیا میں ہونے والے واقعات کے تناظر میں ہمیں اس کا اندازہ ہوا ہے کہ لندن میں عوام خاصے پریشان ہیں‘‘۔

برطانوی پولیس نے کہا ہے کہ مقامی علاقوں اور محلوں میں پولیس ٹیمیں اہم ترین مقامات اور اہداف پر بروقت پہنچ کر ممکنہ وارداتوں کو ناممکن بنانے میں کامیاب ہورہی ہیں۔ خاص طور سے اسکولوں کے اوقات، تعطیلات اورعبادتوں کے اوقات میں عوام کو تحفظ فراہم کرنے کی ممکنہ کوششیں کی جاتی ہیں۔

اسلاموفوبیا پر نظر رکھنے والی ایک مسلم آرگنائزیشن Tell Mama سے تعلق رکھنے والے فیاض مُغل کا کہنا ہے کہ اس طرح کے حملوں یا جرائم کے شکار ہونے والے افراد میں 60 فیصد حجاب پہننے والی خواتین شامل ہیں۔

Proteste gegen Geert Wilders in London

لندن میں گیئرٹ ولڈرز کے خلاف مظاہرہ

میٹروپولیٹن پولیس کمانڈر ماک چشتی نے لندن کے رہائشیوں کو یقین دلایا ہے کہ نفرت کی بنیاد پر کیے جانے والے جرائم کے بارے میں درج کروائی جانے والی ہر رپورٹ کو نہا یت سنجیدگی سے لیا جاتا ہے۔ اُن کے بقول،’’ ہمارے پاس 900 سے زائد ماہر پولیس افسر لندن بھر میں تحفظ کے عمل کی نگرانی کر رہے ہیں جنہوں نے خود کو نفرت کی بنیاد پر ہونے والے جرائم کی روک تھام کے لیے وقف کر رکھا ہے‘‘۔

برطانیہ میں یہ سرکاری اعداد و شمار دراصل یہودیوں کی سکیورٹی چیریٹی ’’ کمیونٹی سروس ٹرسٹ‘‘ کی طرف سے جنوری تا جون کے دوران صیہونیت مخالف جرائم میں 53 فیصد اضافے کی رپورٹ پیش کیے جانے کے بعد منظر عام پر آئے ہیں۔

DW.COM