1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

’برطانیہ فرانس سے کیَلے مہاجرین ڈیل کا اعادہ چاہتا ہے‘

برطانوی وزیر داخلہ امبر رُڈ منگل کو اپنے فرانسیسی ہم منصب سے ملاقات کر کے شمالی فرانسیسی شہر کیَلے میں موجود ہزاروں مہاجرین کو برطانیہ پہنچنے سے روکنے سے متعلق ڈیل کو برقرار رکھنے پر بات کریں گی۔

فرانس اور برطانیہ کے درمیان اس معاہدے کے تحت کیَلے شہر میں ہزاروں مہاجرین اور سیاسی پناہ کے متلاشیوں کو چینل ٹنل کے ذریعے برطانیہ پہنچنے سے روکا جاتا ہے، جب کہ یہ معاہدہ برطانیہ کو کَیلے میں سرحدی چیکنگ کا اختیار دیتا ہے۔

یہ ملاقات ایک ایسے موقع پر ہو رہی ہے، جب فرانسیسی صدارتی امیدوار اور سابق صدر نکولا سارکوزی نے اپنے ایک تازہ بیان میں کہا ہے کہ برطانیہ کو مہاجرین کا یہ معاملہ اپنی سرزمین پر حل کرنا چاہیے۔ اس سے قبل ایک اور قدامت پسند صدارتی امیدوار ایلیں یُوپ نے بھی ایسا ہی بیان دیا تھا۔

شمالی فرانسیسی شہر کَیلے میں واقع مہاجر بستی کو نہایت خراب حالت کی وجہ سے ’جنگل‘ کے نام سے پکارا جاتا ہے، جب کہ یہاں تقریباﹰ سات ہزار مہاجرین موجود ہیں۔ غیرسرکاری امدادی تنظیمیں ان مہاجرین کی تعداد نو ہزار بتاتی ہیں۔

رُڈ کے ایک ترجمان کی جانب سے کہا گیا ہے، ’’ہم اپنی مشترکہ سرحد کی حفاظت کے لیے مشترکہ اقدامات کے عزم پر قائم ہیں۔‘‘

Frankreich Flüchtlingslager Jungle in Calais

کیلے میں ہزاروں مہاجرین موجود ہیں

اس ترجمان کا کہنا تھا کہ رُڈ اپنے فرانسیسی ہم منصب سے ملاقات میں سلامتی کے موضوع پر بھی بات چیت کریں گی۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے، ’’ہم اس اصول پر یقین رکھتے ہیں کہ کسی بھی مہاجر کو اس محفوظ ملک ہی میں پناہ دی جانا چاہیے، جس میں وہ سب سے پہلے داخل ہوا ہو۔‘‘

اس معاہدے کی سب سے خاص بات یہ ہے کہ اس کے ذریعے برطانوی حکام کو فرانسیسی سر زمین پر پاسپورٹ چیک کرنے کے اختیارات حاصل ہیں۔

یہ بات اہم ہے کہ برطانیہ میں رواں برس جون میں منعقد ہونے والے ریفرنڈم میں عوام کی اکثریت نے یورپی یونین سے اخراج کے حق میں رائے دی تھی، جس کے بعد متعدد فرانسیسی رہنماؤں کی جانب سے کہا جا چکا ہے کہ اس صورت حال میں برطانیہ کے ساتھ سابقہ معاہدوں میں تبدیلی کی جانا چاہیے۔

سابق صدر نکولا سارکوزی نے کَیلے ریجن کے سربراہ خاویر بیرٹراں کے مؤقف سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ ماضی میں برطانیہ کے ساتھ طے کردہ اس معاہدہ کو ختم کر کے برطانوی وزیراعظم ٹیریزا مے کے ساتھ کسی نئے نظام کے لیے نئے سرے سے مذاکرات کیے جانا چاہیں۔