1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

برطانیہ‘ سے علیحدگی کا عمل پُرسکون ہونا چاہیے: میرکل

جرمن چانسلر انگیلا میرکل نے برطانیہ کی یورپی یونین سے علیحدگی کے فیصلے کو متانت کے ساتھ تسلیم کرتے ہوئے اس کے اخراج کے عمل کو پُرسکون انداز میں مکمل کرنے پر زور دیا ہے۔

ہفتے کے روز یورپی یونین کے چھ بانی اراکین ممالک کے وزرائے خارجہ نے جرمن دارالحکومت برلن میں ملاقات کی، جس کے بعد ان کی طرف سے کہا گیا کہ لندن حکومت کو یورپی یونین سے جلد از جلد الگ ہو جانا چاہیے۔

ان کے موقف کے برعکس جرمن چانسلر انگیلا میرکل نے برلن سے مغرب کی طرف واقع تاریخی جرمن شہر پوٹسڈام کے مضافات میں ہرمنز ورڈر کے مقام پر اپنی قدامت پسند سیاسی جماعت سی ڈی یو کے سیاستدانوں کے ساتھ ایک ملاقات میں کہا، ’’برطانیہ سے مذاکرات کا انداز تجارتی ہونا چاہیے۔ یہ بات چیت ایک خوشگوار فضا میں ہونی چاہیے۔‘‘میرکل کا کہنا تھا کہ برطانیہ یورپی یونین کا ایک قریبی ساتھی رہے گا اور اس کے ساتھ یورپی اتحاد کا گہرا اقتصادی تعلق رہا ہے۔جرمن چانسلر نے واضح الفاظ میں کہا ہے، ’’یورپی معاہدے کے آرٹیکل نمبر 50 کے تحت لندن حکومت کو یورپی یونین چھوڑنے کے عمل میں کسی جلد بازی سے کام لینے کی ضرورت نہیں ہے۔‘‘

Deutschland Klausur von CDU und CSU in Potsdam

پوٹسڈام میں میرکل کی قدامت پسند سیاستدانوں سے ملاقات

فرانس، اٹلی، ہالینڈ، بیلجیم اور لکسمبرگ کے وزرائے خارجہ کی طرف سے برطانیہ کے اخراج کو جلد از جلد عمل میں لانے کے مطالبے کے برعکس جرمن چانسلر کا کہنا تھا، ’’یہ حقیقت ہے کہ اس عمل کو بہت طول نہیں دینا چاہیے لیکن میں اس وقت اس میں جلدی کے لیے کوئی زور نہیں دوں گی۔‘‘

برلن میں یورپی یونین کے چھ بانی رکن ممالک کے وزرائے خارجہ کے اجلاس سے قبل ایک اخبار سے بات کرتے ہوئے یورپی کمیشن کے سربراہ نے کہا تھا، ’’اس معاملے میں اپنی مرضی چلانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا (کیونکہ) جو نکل گیا وہ نکل گیا۔ اب بریگزٹ کے اطلاق کو صاف ستھرے طریقے سے مکمل کرنا ہے کیونکہ شہریوں اور کاروباری دنیا کو اس فیصلے کی قانونی حیثیت معلوم ہونی چاہیے۔‘‘

Großbritannien Brexit Protest in London

ریفرنڈم کے ایک روز بعد لندن میں اس کے نتائج کے خلاف ہونے والا احتجاجی مظاہرہ

بانی رکن ممالک کے اجلاس سے پہلے فرانس کے وزیر خارجہ نے بھی یورپی یونین سے برطانیہ کے اخراج کے عمل کو جلد مکمل کرنے پر زور دیا تھا۔

اُدھر بریگزٹ کے سلسلے میں برطانیہ میں فعال ’Vote Leave ‘ مہم کے چیف ایگزیکٹیو نے اس امر پر زور دیا ہے کہ لندن کی طرف سے لزبن ٹریٹی کے تحت یورپی یونین کو برطانیہ کے اخراج کے بارے میں نوٹیفیکیشن جاری کیے جانے سے پہلے برطانیہ کے ساتھ غیر رسمی بات چیت کی جانی چاہیے۔

واضح رہے کہ لزبن معاہدے کے رو سے یورپی یونین سے علیحدگی کے عمل کے مکمل ہونے کے لیے دو سال کی مدت دی جاتی ہے۔

DW.COM