1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

برطانیہ: دوسرا مباحثہ، کیمرون کا پلڑا بھاری

برطانیہ میں وزارت عظمیٰ کے امیدواروں گورڈن براؤن، ڈیوڈ کیمرون اور نک کلیگ کے مابین خارجہ سیاست سے متعلق مباحثے میں وزیر اعظم براؤن نے بقیہ دو پر برطانیہ کو عالمی سیاست میں کمزور وتنہا کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔

مباحثے کے بعد کے جائزوں کے مطابق قدامت پسند ڈیوڈ کیمرون کو فاتحہ قرار دیا جارہا ہے جبکہ لبرل ڈیموکریٹ کلیگ دوسرے اور لیبر پارٹی کے گورڈن براؤن تیسرے نمبر پر رہے۔ داخلی امور سے متعلق پہلے مباحثے کے بعد سب سے زیادہ مقبول ہونے والے نک کلیگ پر اس بار براؤن اور کیمرون دونوں نے متواتر حملے کئے اور انہیں دباؤ میں لانے کی کوشش کی۔

حکمران لیبر جماعت کے براؤن، کنزرویٹو جماعت کے کمیرون اور لبرل ڈیموکریٹ جماعت کے کلگ کے مابین اس نوے منٹ کے مباحثے میں افغانستان کا معاملہ سرفہرست موضوعات میں سے رہا۔ تینوں امیدواروں نے افغان مشن کی حمایت کی البتہ کیمرون اور نک نے اس مشن کے لئے برطانوی افواج کو فراہم کردہ وسائل کے سلسلے میں براؤن پر تنقید کا موقع ضائع ہونے نہیں دیا۔ گورڈن براؤن نے حکومتی پالیسیوں کا دفاع کرتے ہوئے مخالفین پر الزام عائد کیا کہ وہ برطانیہ کو جوہری حملے کے خطرات سے دوچار اور یورپ میں تنہا کردیں گے۔

براؤن نے اس موقع پر کہا:’’ نک تم ہمیں کمزور کردو گے، ڈیوڈ تم ہمیں یورپ میں تنہا کردو گے‘‘۔ انہوں نے یہ بات ایران، شمالی کوریا اور دوسرے ممالک کی جانب سے برطانیہ پر ممکنہ جوہری حملے کے تناظر میں لندن کے مجوزہ Trident Nuclear Missile Programme کے حوالے سے کہی۔ نک کلیگ نے زمانہ ء سرد جنگ کے اس پروگرام پر مزید 80 ارب پونڈ خرچ کرنے کی مخالفت کی تھی۔

مباحثے کے دوران وزیر اعظم براؤن نے اپنے بڑے حریف کیمرون کو یورپ مخالف اور نک کو امریکہ مخالف قرار دیا۔ ڈیوڈ کیمرون کہہ چکے ہیں کہ برطانیہ نے بہت سے اختیارات برسلز ’’یورپین یونین کا صدر دفتر‘‘ کو منتقل کردئے ہیں۔ ان کے مطابق وہ برطانیہ کو یورپی یونین کا حصہ رکھنا چاہتے ہیں تاہم اس کے ماتحت نہیں کرنا چاہتے۔ وزیراعظم براؤن نے اسی معاملے سے متعلق پوچھے گئے سوال کے جوات میں کہا :’’ یورپین یونین میں رہنے کی تیس لاکھ وجوہات ہیں جنیں’نوکریاں‘ کہا جاتا ہے‘‘۔

غیر ملکی تارکین وطن کے معاملے پر وزیراعظم براؤن نے کہا کہ یورپ کے باہر سے کسی بھی غیر ہنر مند تارک وطن کو برطانیہ آنے کی اجازت نہیں اور کوشش کی جارہی ہے کہ بیرونی ہنر مندوں پر انحصار کم کیا جاسکے۔ کیمرون کا کہنا تھا کہ برطانیہ کو تارکین وطن سے فائدہ پہنچا ہے البتہ حالیہ برسوں میں ان کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے جسے کم کرنے کی ضرورت ہے۔

نک کلیگ نے کہا کہ ان کی جماعت اقتدار میں آنے کے بعد تارکین وطن کو کم گنجان آباد علاقوں میں بسائے گی اور exit control کا نظام دوبارہ متعارف کرائے گی۔ برطانیہ میں چھ مئی کو ہونے والے پارلیمانی انتخابات کے تناظر میں براہ راست مباحثوں کے اس سلسلے کو خاصی اہمیت دی جارہی ہے۔ مباحثوں کے اس سلسلے کے آخری مقابلے کا موضوع معیشت ہے۔

رپورٹ : شادی خان سیف

ادارت : عدنان اسحاق

DW.COM