1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

برطانیہ: تین پاکستانی نژاد شہریوں کی ہلاکت، اہل خانہ نڈھال

برطانیہ میں ایک سیاہ فام باشندے کی ہلاکت کے بعد مختلف شہروں میں ہونے والے فسادات تو تھم گئے ہیں لیکن مظاہروں کے دوران برمنگھم شہر میں ہلاک ہونے والے 3 پاکستانی نژاد برطانوی شہریوں کے رشتہ دار اب بھی شدت غم سے نڈھال ہیں۔

default

برمنگھم میں مبینہ طور پر کار کی زد میں آ کر ہلاک ہونے والوں میں دو سگے بھائیوں شہزاد حسین اور مصور علی کے علاوہ ہارون جہان کا تعلق راولپنڈی ضلع کی تحصیل گوجر خان سے تھا۔

دارلحکومت اسلام آباد سے 55 کلو میٹر کی مسافت پر گوجر خان کے نواحی گاؤں گلیانہ میں صف ماتم بچھی ہوئی ہے۔ شہزاد حسین اور مصور علی کا تعلق اسی چھوٹے سے گاؤں سے تھا اور جہاں تقریباً ڈیڑھ سال قبل شہزاد حسین کی اپنی ایک رشتہ دار لڑکی خنساء سے شادی بھی ہوئی تھی۔ شہزاد حسین کے سسر ارشاد کے مطابق تقریباً چالیس سال قبل شہزاد اور مصور کے والدین گوجر خان سے برطانیہ جا کرآباد ہوئے تھے اور دونوں بھائیوں کی پیدائش بھی وہیں پر ہوئی۔ تاہم مختلف موقعوں پر اس خاندان کا اپنے آبائی علاقے میں آنا جانا لگا رہتا تھا۔ مقتول شہزاد حسین کی اہلیہ کے کزن منیب انجم نے ڈوئچے ویلے کو بتایا کہ انہیں برمنگھم سے فون کے ذریعے اطلاع دی گئی کہ وہ دونوں بھائی اب اس دنیا میں نہیں رہے۔

’’اپنی کمیونٹی کے لیے لوگوں اور ان کے کاروبار کی حفاظت کے لیے یہ لوگ وہاں گئے۔ یہ لوگ جا رہے تھے کہ ایک سیاہ فام نے ان کو گاڑی سے ٹکر مار دی۔ دونوں بھائی وہیں موقع پر جاں بحق ہو گئے اور ان کا تیسرا دوست ہسپتال جا کر دم توڑ گیا۔ شہزاد بہت اچھا، ہنس مکھ اور ملنسار لڑکا تھا۔ وہ ان لوگوں کی کافی مدد بھی کرتا تھا، جہاں سے اس نے شادی کی تھی اور اپنے کام سے کام رکھنے والا لڑکا تھا وہ لڑائی جھگڑوں میں نہیں پڑتا تھا۔‘‘

لندن میں ہنگاموں اور آتش زنی کے واقعات کے بعد ایک رہائشی عمارت آگ کی لپیٹ میں

لندن میں ہنگاموں اور آتش زنی کے واقعات کے بعد ایک رہائشی عمارت آگ کی لپیٹ میں

گاؤں کے سادہ لوح لوگوں کو برطانیہ میں ہونے والے فسادات سے متعلق زیادہ معلومات نہیں تاہم وہ اپنے دو جواں سال عزیزوں کی ہلاکت پر بے حد غم زدہ ہیں۔ مقتول شہزاد حسین کی اہلیہ کی بڑی ہمشیرہ کا کہنا ہے کہ ان کی بہن سے ٹیلی فون پر بات ہوئی ہے اور وہ شدید صدمے کی کیفیت سے دوچار ہے۔

’’کیا کہیں ، میں کیا بتاؤں کچھ بھی نہیں معلوم۔ ہماری بہن سے بات ہوئی ہے، وہ چیختی ہے بس اس سے بات نہیں ہو پاتی، اس کی کیا پتہ کیا حالت ہے۔ وہ فون کرتی ہے، امی کو ابو کو کچھ بھی نہیں بولتی صبح سے ایک مرتبہ بات ہوئی ہے۔‘‘

گوجر خان کا شمار پاکستان کے ان علاقوں میں ہوتا ہے جہاں کے رہنے والے بڑی تعداد میں ہجرت کر کے برطانیہ اور دیگر یورپی ممالک میں رہ رہے ہیں۔ تاہم برطانیہ میں حالیہ فسادات اور ہلاکتوں کے بعد یہاں کے رہنے والے سخت پریشان ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ پاکستان کی طرح اب برطانیہ میں بھی انسانی جانیں محفوظ نہیں ہیں۔

رپورٹ : شکور رحیم

ادارت : عاطف توقیر

DW.COM