1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

برطانیہ: تخریب کاروں کو قید کی سزائیں سنا دی گئیں

مسلسل چار راتوں سے جاری ہنگامہ آرائی اور تخریبی کارروائیوں کے بعد گزشتہ شب برطانیہ میں نسبتاً امن و سکون پایا گیا۔

default

ویسٹ منسٹر میجسٹریٹ کورٹ کے باہر پولیس کا پہرا

بھاری تعداد میں پولیس اہلکاروں کی تعیناتی کے بعد سلامتی کے ادارے مزید فسادات اور جلاؤ گھیراؤ کو روکنے میں کامیاب رہے۔ آج جمعرات کو لندن کی پارلیمان میں ایک خصوصی اجلاس کا انعقاد بھی ہوا، جس میں گزشتہ چند روز سے جاری پر تشدد ہنگاموں کے بارے میں صلاح مشورے کیے گئے۔ دریں اثناء ملک میں شورش زدگی کا سلسلہ شروع کرنے والے تخریب کاروں کو قید کی سزا سنا دی گئی ہے۔ اب تک 1200 افراد کی گرفتاریاں عمل میں آ چکی ہیں۔

برطانیہ میں حالیہ فسادات سے نمٹنے کے لیے لندن میں آج جمعرات سے سیاسی سطح کے مذاکرات کا آغاز ہوا ہے۔ پارلیمان کا خصوصی اجلاس منعقد ہوا، جس کے لیے اکثر اراکین پارلیمان کو موسم گرما کی تعطیلات سے واپس بلا لیا گیا۔ وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نے کل ہی تخریب کاروں کے خلاف مزید سخت کریک ڈاؤن کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا،’ اس قسم کی ہنگامہ آرائی اور تشدد کو کسی صورت بھی برداشت نہیں کیا جائے گا اور اسے ختم ہونا ہوگا‘۔

NO FLASH Cameron PK

تخریب کاروں سے سختی سے نمٹا جائے گا: ڈیوڈ کیمرون

کیمرون نے یہ بھی کہا تھا کہ اگر یہ فسادات نہ رکے تو ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے پولیس کی طرف سے پانی کی تیز دھار اور ربر کی گولیاں استعمال کرنے سے بھی اجتناب نہیں کیا جائے گا۔ تاہم ماہرین ان اقدامات کے مؤثر ہونے کے بارے میں شکوک و شبہات کا اظہار کر رہے ہیں۔ برطانوی سربراہ حکومت کیمرون فسادیوں کو سخت قانونی کارروائی کی تنبیہ بھی کر چکے ہیں۔ اُن کے بقول، ’سزائیں سنانا دراصل عدالت کا کام ہے تاہم میں امید کرتا ہوں کہ تشدد کی کارروائیوں میں ملوث ہر شخص کو جیل بھیج دیا جائے گا‘۔

حالیہ فسادات شروع کرنے والوں کو قید کی سزا سنائی جا چکی ہے۔ جرائم سے متعلق عدالتوں کے دروازے رات دن کھلے ہیں تاکہ ہر کیس کی چھان بین بلاتاخیر کی جا سکے۔ اس کے علاوہ تفتیشی ماہرین خفیہ کیمروں سے لی گئی تصاویر کا معائنہ بھی کر رہے ہیں تاکہ تخریب کاروں کو پکڑنے میں مدد مل سکے۔

London Proteste und Ausschreitungen August 2011

برطانیہ کے حالیہ فسادات سے لندن کو کافی نقصان پہنچا ہے

ڈیوڈ کیمرون نے اس حقیقت کو تسلیم کیا ہے کہ اُن کے ملک میں پائے جانے والے یوتھ گینگ ایک بڑا مسئلہ ہیں اور معاشرے کے کچھ حصوں میں احساس ذمہ داری کا بھی سخت فقدان پایا جاتا ہے۔ تاہم انہوں نے چند روز سے جاری ان فسادات کی اصل سماجی وجوہات پر روشنی نہیں ڈالی۔ قبل ازیں لیبر پارٹی کے سربراہ اَیڈ ملی بینڈ نے کہا تھا، ’یہ وجوہات کثیر الجہتی اور پیچیدہ ہیں۔ اِن کا تعلق اُن نوجوانوں کی اُن کے والدین کی طرف سے کی جانے والی تربیت، نوجوانوں کے گروہوں اور نوجوانوں کی اُمنگوں سے ہے‘۔

رپورٹ: ٹورسٹن ہُون، لندن / کشور مصطفیٰ

ادارت: مقبول ملک

DW.COM

ویب لنکس