1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

برطانیہ اور یورپی یونین، اعداد و شمار اور حقائق

پیسہ بہت سی لڑائیوں کی مرکزی وجہ رہا ہے اور جمعرات کو برطانیہ میں ہونے والا ریفرنڈم بھی اس سے مبرا نہیں تھا۔ اس ریفرنڈم میں برطانوی عوام نے یورپی یونین سے الگ ہونے کا فیصلہ دیا۔

اس ریفرنڈم سے قبل دونوں کیمپوں ’رکن رہیں‘ اور ’رکن نہ رہیں‘ اعداد و شمار اور شماریاتی جائزوں کی بھرمار کے ذریعے اپنی اپنی دلیلوں کو مضبوط بنا کر عوام کو اپنی جانب مائل کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔

اس مہم میں پیش کیے گئے اعداد و شمار اور ان کی حقیقت پر ایک نظر:

ریفرنڈم مہم میں ’رکن نہ رہیں‘ کی جانب سے بار بار یہ دعویٰ کیا جاتا رہا کہ یورپی یونین کی رکنیت کی وجہ سے برطانیہ کو ساڑھے تین سو ملین پاؤنڈ فی ہفتہ پیسے دینا پڑتے ہیں۔ تاہم یہ دراصل ایک مجموعی رقم ہے، اس میں سن 1984ء میں وزیراعظم مارگریٹ تھیچر کے دور میں برطانیہ اور یورپی یونین کے درمیان مذاکرات کے ذریعے کم کرائے گئے معاوضے کو نکال دیا جائے، تو یہ سن 2014 کے اعداد و شمار کے مطابق رقم 280 ملین بنتی ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ برطانیہ یورپی یونین کو معاوضہ ادا کیسے کرتا ہے۔

سن 2015ء میں برطانیہ نے یورپی یونین کے بجٹ میں 17.8 ارب پاؤنڈ یا ری بیٹ کا سرمایہ تفریق کے بعد 12.9 ارب پاؤنڈ شامل کیے۔

اس کے بدلے برطانیہ کو زراعت اور سائنسی تحقیقی صنعت میں چھ ارب پاؤنڈ کی سبسِڈی دی گئی۔

دوسرے کیمپ کا موقف رہا ہے کہ اگر برطانیہ یورپی یونین سے نکلتا ہے، تو پھر اسے یہ مراعات حاصل نہیں ہوں گی، جب کہ یورپی یونین کی رکنیت کے مخالفین یہ کہتے آئے ہیں کہ یہ سرمایہ برطانوی حکومت کو خود خرچ کرنا چاہیے۔

یورپی کمیشن کی جانب سے سن 2014ء کے اعداد و شمار کے مطابق اپنی اقتصادیات کے حجم کے اعتبار سے برطانیہ اس 28 رکنی بلاک کے بجٹ میں اپنا حصہ شامل کرنے والا دسواں سب سے بڑا ملک ہے۔

امیگریشن کا موضوع بھی اس ریفرنڈم سے قبل چھایا رہا۔ برطانیہ کے مطابق سن 2004 تا 2015برطانیہ میں یورپی یونین کے ذریعے آنے والے تارکین وطن کی تعداد تین ملین رہی ہے۔

اس تعداد میں اضافے کی وجہ یورپی یونین میں مشرقی یورپی ریاستوں کی شمولیت کا سلسلہ ہے، جو سن 2004ء سے جاری ہے۔ پہلے تو برطانیہ میں زیادہ تر یورپی مہاجرین کی تعداد کا تعلق پولینڈ اور رومانیہ سے تھا، تاہم یورو زون کو لاحق ہونے والے حالیہ بحران اور یونان اور جنوبی یورپی ریاستوں کی مالیاتی صورت حال نے دیگر ممالک کے شہریوں کو بھی برطانیہ کا رخ کرنے پر مجبور کیا ہے۔

اسی لیے رکنیت کے مخالف رہنما بار بار اپنی تقاریر میں کہتے آئے ہیں کہ اگر برطانیہ یورپی یونین سے باہر نہیں نکلتا ہے، تو اگلے پندرہ برسوں میں وہاں مزید پانچ ملین یورپی تارکین وطن پہنچ جائیں گے، جس سے عوامی بہبود کے شعبے کو شدید دباؤ کا مسئلہ درپیش ہو جائے گا۔

اس دوراں ریفرنڈم مہم میں یورپی یونین مخالف رہنما یہ بھی کہتے آئے ہیں کہ یورپی یونین سن 2020ء تک ترکی، البانیہ، سربیا اور مونٹینیگرو کو بھی رکنیت دے دے گی۔

دوسری جانب قریب ایک اعشاریہ تین ملین برطانوی شہری بھی مختلف یورپی ممالک میں آباد ہیں۔

رکنیت کے حامی اس بات پر بھی زور دیتے رہے ہیں کہ سنگل مارکیٹ سے نکلنے کا نقصان برطانیہ کو زیادہ ہو گا، کیوں کہ برطانیہ کی 44 فیصد برآمدات یورپی ریاستوں کو ہوتی ہیں، جب کہ برطانیہ اپنی کل درآمدات کا تقریباﹰ 53 فیصد یورپی یونین کی ریاستوں سے حاصل کرتا ہے۔