1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

برطانیہ اور لیبیا میں گرفتاریاں، تحقیقات کا دائرہ کار وسیع

برطانوی پولیس نے تصدیق کر دی ہے کہ مانچسٹر میں مشتبہ خود کش حملہ کرنے والا سلمان عبیدی ایک ’دہشت گرد نیٹ ورک کا حصہ‘ معلوم ہوتا ہے۔ پولیس اس بم دھماکے کی تحقیقات کے سلسلے میں سات مشتبہ افراد کو گرفتار کر چکی ہے۔

گزشتہ پیر کی رات ایک کنسرٹ کے اختتام پر کیے گئے حملے میں بائیس افراد ہلاک جبکہ چونسٹھ زخمی ہو گئے تھے۔ ان میں سے پانچ افراد کی حالت نازک بتائی جا رہی ہے۔ اس واقعے کے بعد برطانیہ میں سکیورٹی لیول کو بڑھاتے ہوئے اہم مقامات پر پولیس کے ساتھ ساتھ فوجی اہلکار بھی تعینات کر دیے گئے ہیں۔

برطانوی پولیس نے لیبیائی نژاد سلمان عبیدی  کے بارے میں مکمل چھان بین کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے اور اس حوالے سے یہ کہا ہے کہ وہ ممکنہ طور پر ایک ’بڑے دہشت گردانہ نیٹ ورک‘ کا حصہ تھا۔ تحقیقات کا دائرہ کار وسیع کرتے ہوئے نہ صرف برطانیہ بلکہ لیبیا میں بھی چھاپے مارتے ہوئے گرفتاریاں عمل میں لائی گئی ہیں۔

UK Der mutmaßliche Täter von Manchester | Salman Abedi (picture alliance/AP Photo)

مشتبہ خود کش حملہ آور سلمان عبیدی

لیبیا میں انسداد دہشت گردی کے حکام نے نیوز ایجنسی اے پی کو بتایا ہے کہ مشتبہ حملہ آور کے والد اور چھوٹے بھائی کو گرفتار کیا گیا ہے، جنہیں مبینہ طور پر مانچسٹر حملے کی تفصیلات کا علم تھا۔

مانچسٹر دھماکا، امداد میں پاکستانی برادری آگے آگے

اس شک کے بعد کہ سلمان عبیدی ایک نیٹ ورک کا حصہ ہے اور برطانیہ میں مزید کوئی ایسا حملہ کیا جا سکتا ہے، ملک میں سکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی ہے۔ بکنگھم پیلس اور برطانوی پارلیمنٹ جیسے اہم مقامات پر ایک ہزار کے قریب فوجی تعینات کر دیے گئے ہیں۔

 ابھی تک برطانوی حکام نے ایسا کوئی بھی تبصرہ کرنے سے انکار کیا ہے، جس سے یہ پتا چلتا ہو کہ حملہ آور کو تعلق داعش یا پھر کسی دوسرے گروپ سے تھا۔ دو برطانوی پولیس اہلکاروں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ اس حوالے سے بھی تحقیقات کی جا رہی ہیں کہ آیا حملہ آور کا یورپ یا کسی شمالی افریقہ کے گروپ سے کوئی تعلق ہے۔      

دوسری جانب مانچسٹر کے کرائم سین کی تصاویر کے امریکی میڈیا پر شائع ہونے پر برطانوی تحقیقاتی افسران نے غم و غصے کا اظہار کیا ہے۔ نیو یارک ٹائمز اور دیگر میڈیا اداروں نے مانچسٹر حملے کے حوالے سے ایسی تصاویر شائع کی ہیں، جن کے بارے میں مبینہ طور پر کیا جا رہا ہے کہ وہ بطور شواہد پرکھی جا رہی ہیں۔ اس پیشرفت پر برطانوی وزیر اعظم ٹریزا مے متوقع طور پر آج امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے شکوہ کریں گی۔ دونوں رہنما آج برسلز میں نیٹو سمٹ کے موقع پر مل رہے ہیں۔

DW.COM