1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

برطانيہ ميں دہائيوں بعد جوہری توانائی کے منصوبے کی منظور

برطانوی حکومت نے جوہری توانائی کے حصول کے ليے چوبيس بلين ڈالر ماليت کے ايک متنازعہ منصوبے کی منظوری دے دی ہے۔ يہ منصوبہ کچھ عرصے سے برطانيہ کے چين اور فرانس کے ساتھ تعلقات ميں خلش کا سبب بنا ہوا تھا۔

برطانيہ ميں وزير اعظم ٹيريزا مے کی حکومت نے جمعرات پندرہ ستمبر کو ’ہنکلی پوائنٹ سی‘ نامی منصوبے کی منظوری دے دی ہے۔ توانائی کے حصول کے ليے برطانيہ ميں کئی دہائيوں بعد کسی جوہری پلانٹ کی منظوری دی گئی ہے۔ ملک کے جنوب مغربی حصے ميں اس پاور پلانٹ کو فرانسيسی کمپنی ’ای ڈی ايف‘ تعمير کرے گی جبکہ اس ميں چين کی آٹھ بلين ڈالر کی سرمايہ کاری بھی شامل ہے۔

ٹيريزا مے نے وزارت عظمیٰ کا عہدہ برطانيہ کے يورپی يونين سے اخراج يا ’بريگزٹ‘ اور پھر اس کے بعد وزير اعظم ڈيوڈ کيمرون کے سبکدوش ہونے کے بعد سنبھالا تھا۔ جوہری توانائی کے حصول کے ليے يہ منصوبہ رواں برس جولائی ميں منظور ہونے ہی والا تھا کہ مے نے اسے ملتوی کر کے سرمايہ کاروں کو سکتے ميں ڈال ديا۔ اُس وقت نو منتخب وزير اعظم ٹيريزا مے نے اس فيصلے کی وجہ يہ بتائی کہ انہيں حساس شعبوں ميں بيرونی ملکوں کی سرمايہ کاری اور سلامتی سے متعلق امور کا تفصيلی جائزہ لينا ہے، جس کے بعد ہی پلانٹ کی تعمير کی منظوری دی جا سکے گی۔

جمعرات پندرہ ستمبر کو برطانوی بزنس منسٹر گريگ کلارک نے ايک بيان ميں کہا، ’’حکومت نے منصوبے کے ساتھ آگے بڑھنے کا فيصلہ کيا ہے۔‘‘ ان کے بقول منصوبے کے تفصيلی جائزے کے بعد اس نتيجے پر پہنچا گيا ہے کہ سلامتی کو يقينی بنانے کے ليے اقدامات متعارف کرائے جائيں گے اور اس بات کا خيال بھی رکھا جائے گا کہ حکومت کی اجازت کے بغير ’ہنکلی پوائنٹ سی‘ ميں کوئی ردوبدل نہ کیا جا سکے۔

سابق برطانوی وزير اعظم ڈيوڈ کيمرون منصوبے کا جائزہ ليتے ہوئے

سابق برطانوی وزير اعظم ڈيوڈ کيمرون منصوبے کا جائزہ ليتے ہوئے

بعد ازاں فرانسيسی کمپنی ’ای ڈی ايف‘ اور چينی حکومت کی حمايت يافتہ کمپنی ’چائنا جنرل نيوکليئر پاور کارپوريشن‘ نے لندن حکومت کے فيصلے کا خير مقدم کيا۔

برطانيہ ميں کوئلے کے ذريعے بجلی پيدا کرنے والے تمام پلانٹ سن 2025 تک ختم ہو جائيں گے جس کے نتيجے ميں بجلی کی مانگ اور ترسيل ميں فرق پڑے گا۔ ہنکلی پوائنٹ کے مقام پر دو نئے ری ايکٹرز کے قيام سے ملکی ضروريات کا سات فيصد پورا ہو سکے گا۔

وزير اعظم ٹيريزا مے کی حکومت نے آج ہی حساس شعبوں ميں بيرونی سرمايہ کاری کے حوالے سے نئی پاليسی کا بھی اعلان کيا ہے۔ نئی پاليسی کے تحت ايسے شعبوں سے منسلک منصوبوں ميں حکومت کو موجودہ دور کےمقابلے ميں زيادہ کنٹرول حاصل ہو گا۔