1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

برطانوی وزیر خزانہ کا کیمرون کا جانشین بننے سے انکار

برطانیہ کے یورپی یونین سے اخراج کے فیصلے کے بعد ملکی وزیر خزانہ جارج اوسبورن نے مستعفی ہو جانے والے وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون کا جانشین بننے سے انکار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ حکمران جماعت کی قیادت کے لیے موزوں شخصیت نہیں ہیں۔

England Parlamentssitzung Premierminister David Cameronv und George Osborne

برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون، دائیں، اور وزیر خزانہ جارج اوسبورن ملکی پارلیمان کے ایک اجلاس میں

لندن سے منگل اٹھائیس جون کو ملنے والی نیوز ایجنسی اے ایف پی کی رپورٹوں کے مطابق برطانیہ کے یورپی یونین سے اخراج کے موضوع پر تئیس جون کو ہونے والے ’بریگزٹ‘ ریفرنڈم کے بعد ڈیوڈ کیمرون یہ کہہ چکے ہیں کہ وہ اس سال اکتوبر میں اپنے عہدے سے مستعفی ہو جائیں گے۔

اس سلسلے میں قدامت پسند کیمرون کے ممکنہ جانشین سیاستدانوں میں ایک اہم نام وزیر خزانہ جارج اوسبورن کا بھی تھا۔ تاہم اوسبورن نے اب اس بات کو خارج از امکان قرار دے دیا ہے کہ وہ لندن میں حکمران ٹوری پارٹی کی قیادت کے لیے امیدوار ہوں گے۔

اے ایف پی کے مطابق جارج اوسبورن نے برطانوی اخبار ’دا ٹائمز‘ میں منگل اٹھائیس جون کو شائع ہونے والے اپنے ایک مضمون میں لکھا کہ گزشتہ ہفتے ہونے والے ریفرنڈم سے پہلے کی مہم میں وہ واضح طور پر اس بات کے حامی رہے کہ برطانیہ کو یورپی یونین کا رکن رہنا چاہیے اور یونین سے اخراج کا فیصلہ درست نہیں ہو گا۔ لیکن برطانوی عوام نے 48 فیصد کے مقابلے میں 52 فیصد ووٹوں کی اکثریت سے اس امر کی حمایت کی کہ لندن کو یورپی یونین میں اپنی رکنیت ترک کر دینا چاہیے۔

اس دلیل کے ساتھ جارج اوسبورن نے اپنے مضمون میں لکھا، ’’یونین میں شامل رہنے کے حامی کے طور پر میں اب کوئی ایسی موزوں شخصیت نہیں ہوں جو ٹوری پارٹی کی قیادت سنبھال سکے، جب کہ عوام ’بریگزٹ‘ کے حق میں فیصلہ دے چکے ہیں۔‘‘

Brexit Boris Johnson

لندن کے سابق میئر بورس جانسن، تصویر، اور موجودہ خاتون وزیر داخلہ ٹیریسا مے کو کیمرون کی جانشینی کے لیے دو اہم امیدوار قرار دیا جا رہا ہے

برطانوی وزیر خزانہ نے مزید لکھا کہ وہ ایک سیاستدان کے طور پر حالیہ عوامی ریفرنڈم کے نتائج کو کلی طور پر تسلیم کرتے ہیں لیکن ذاتی طور پر وہ سمجھتے ہیں کہ وہ کوئی ایسی شخصیت نہیں ہیں جو ٹوری پارٹی کو اندرونی طور پر متحدہ کر سکے، وہ اتحاد جس کی پارٹی کو اس وقت اشد ضرورت ہے۔

اے ایف پی کے مطابق برطانوی کنزرویٹو پارٹی ابھی تک ڈیوڈ کیمرون کے ممکنہ جانشین کی تلاش میں ہے، جس کی تقرری اس سال ستمبر میں متوقع ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ ایک بار کیمرون کے جانشین کا انتخاب کر لیا گیا تو نئے پارٹی سربراہ کے طور پر وہ غالباﹰ ملک میں قبل از وقت عام انتخابات کا اعلان بھی کر دیں گے تاکہ نئے سربراہ حکومت کے طور پر ملکی رائے دہندگان سے اپنے انتخاب کی توثیق کروا سکیں۔

اب تک کیمرون کے ممکنہ جانشینوں کے طور پر سامنے آنے والے دو اہم نام بورس جانسن اور ٹیریسا مے کے ہیں۔ بورس جانسن لندن کے سابق میئر ہیں اور ٹیریسا مے موجودہ ملکی حکومت میں وزیر داخلہ کے فرائض انجام دے رہی ہیں۔

DW.COM