1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

برطانوی نوجوانوں کو جرمن شہریت دی جائے، جرمن وزیر کا مطالبہ

جرمن وزیر اقتصادیات اور وفاقی نائب چانسلر زیگمار گابریئل نے کہا ہے کہ یورپی یونین کے رکن ملکوں میں رہنے والے نوجوان برطانوی تارکین وطن کو ان کے میزبان یورپی ملکوں کی طرف سے مقامی شہریت کی پیش کش کی جانا چاہیے۔

جرمن دارالحکومت برلن سے ہفتہ دو جولائی کو موصولہ نیوز ایجنسی روئٹرز کی رپورٹوں کے مطابق زیگمار گابریئل، جو جرمنی کی سوشل ڈیموکریٹک پارٹی ایس پی ڈی کے سربراہ بھی ہیں، نے کہا کہ گزشتہ ماہ کے بریگزٹ ریفرنڈم میں برطانیہ کے یورپی یونین سے آئندہ انخلاء کا فیصلہ اس ملک کے زیادہ تر بزرگ ووٹروں نے کیا لیکن اس کے نتائج نوجوان ووٹروں کو نہیں بھگتنا چاہییں۔

DW.COM

زیگمار گابریئل نے ہفتے کے روز برلن میں اپنی پارٹی SPD کی ایک یورپی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مثال کے طور پر جو نوجوان برطانوی شہری یورپی یونین کے رکن ملکوں سے تعلق رکھنے والے تارکین وطن کے طور پر جرمنی میں رہائش پذیر ہیں، انہیں یہ پیش کش کر دینا چاہیے کہ وہ چاہیں تو جرمن شہریت اختیار کر لیں۔

23 جون کے بریگزٹ ریفرنڈم میں برطانوی رائے دہندگان میں سے 52 فیصد نے اپنے ملک کے یورپی یونین سے نکل جانے اور 48 فیصد نے آئندہ بھی رکن رہنے کی حمایت کی تھی۔

اس ریفرنڈم کی خاص بات یہ تھی کہ اس نے یورپی یونین کی رکنیت کے موضوع پر برطانیہ کو کئی حوالوں سے تقسیم کر دیا تھا۔

مثال کے طور پر نوجوان جن کی رائے بزرگ شہریوں کی رائے کے برعکس تھی یا پھر انگلینڈ اور ویلز جہاں کے رائے دہندگان کی اکثریت کی سوچ سکاٹ لینڈ اور شمالی آئرلینڈ کے ووٹروں کی اکثریت کی سوچ سے متصادم تھی۔

اس تناظر میں سوشل ڈیموکریٹک پارٹی کے سربراہ نے کہا کہ ان حالات میں جرمنی کو سوچنا چاہیے کہ وہ اپنے ہاں نوجوان برطانوی تارکین وطن کو کیا پیش کش کر سکتا ہے۔

زیگمار گابریئل کے بقول ان کی سیاسی جماعت نے ہمیشہ ہی اس بات کی حمایت کی ہے کہ جرمنی کو بھی اپنے ہاں دوہری شہریت کا قانون اپنا لینا چاہیے۔

Leipzig SPD Parteitag Sigmar Gabriel

جرمنی کے نائب چانسلر کے مطابق جرمنی جیسے یورپی ملکوں میں مقیم برطانوی نوجوانوں کو میزبان ملکوں کی شہریت دے دی جائے

بریگزٹ کے پس منظر میں جرمنی کے وفاقی نائب چانسلر نے کہا، ’’جو نوجوان برطانوی شہری جرمنی میں مقیم ہیں، ہمیں ان کو یہ پیش کش کر دینا چاہیے۔ اسی طرح اٹلی اور فرانس جیسے ملکوں کو بھی اپنے ہاں ایسا ہی کرنا چاہیے، کہ وہ برطانوی نوجوان جو ان ملکوں میں رہتے ہیں، وہ چاہیں تو آئندہ بھی یورپی یونین کے شہریوں کے طور پر وہیں رہ سکتے ہیں۔‘‘

اسی دوران جرمنی میں اپوزیشن سے تعلق رکھنے والی ماحول پسندوں کی گرین پارٹی نے بھی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ جرمنی میں رہنے والے برطانوی شہریوں کے لیے جرمن شہریت کا حصول آسان بنا دے۔