1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

برطانوی لیبر پارٹی کو مقامی اور علاقائی انتخابات میں شکست

برطانیہ کے مقامی اور علاقائی انتخابات میں لیبر پارٹی کو بڑے پیمانے پر شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے،خاص طور پر اسکاٹ لینڈ میں۔ تاہم دوسری جانب قوی امید ہے کہ یہ پارٹی لندن کے میئر کا انتخاب جیتنے میں کامیاب ہو جائے گی۔

برطانیہ میں مقامی اور علاقائی انتخابات لیبر پارٹی اور حزب اختلاف کے رہنما جیریمی کوربن کی پالیسیاں کا امتحان بھی ہیں۔ ابتدائی نتائج کے مطابق اسکاٹش قوم پرست پارٹی کی حمایت میں اضافہ ہوا ہے۔ ابھی تک یہ تو معلوم نہیں ہو سکا کہ ان انتخابات میں بائیں بازو کی اعتدال پسند لیبر پارٹی کو ہونے والے نقصان کا دائرہ کتنا وسیع ہے تاہم اس نتیجے سے ایک امر تو واضح ہے کہ اس سے جیریمی کوربن پر پرانی سوشلسٹ پالیسیاں اختیار کرنے کے حوالے سے دباؤ بڑھے گا۔

ابتدائی نتائج کے مطابق اسکاٹش نیشنلسٹ پارٹی کو اسکاٹ لینڈ میں بڑی کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ اسے اس جماعت کی تاریخی فتح قرار دیا جا رہا ہے۔ اس سلسلے میں ووٹوں کی گنتی شاید اس اختتام ہفتہ پر بھی جاری رہے کیونکہ انگلینڈ، ویلز، اسکاٹ لینڈ اور شمالی آئرلینڈ میں کوئی 45 ملین اہل ووٹروں سے حق رائے دہی استعمال کرنے کے لیے کہا گیا تھا۔

Großbritannien Wahl zum Unterhaus Ergebnis SNP Anhänger

اسکاٹش نیشنلسٹ پارٹی کو اسکاٹ لینڈ میں بڑی کامیابی حاصل ہوئی ہے

تاہم دوسری جانب لندن کے میئر کے لیے ہونے والے انتخاب کے نتائج آنا شروع ہو گئے ہیں اور جلد ہی واضح ہو جائے گا کہ قدامت پسند بورس جانسن کا جانشین کون ہو گا۔

اسکاٹ لینڈ میں ’ایس این پی‘ کی سربراہ نکولا اسٹرجن نے کہا، ’’اس حوالے سے اب کوئی خام خیالی باقی نہیں بچی کہ اسکاٹش نیشنلسٹ پارٹی مسلسل تیسری مرتبہ اسکاٹ لینڈ کے پارلیمانی انتخابات میں کامیاب ہوئی ہے۔‘‘ انہوں نے کہا، ’’آج ہم نے تاریخ رقم کر دی ہے۔‘‘ جمعے کو سامنے آنے والے ابتدائی نتائج کے مطابق ایس این پی نے 58 نشستیں حاصل کر لی ہیں اور 129رکنی پارلیمان میں قطعی اکثریت حاصل کرنے کے لیے کسی بھی جماعت کو 65 ارکان کی ضرورت ہوتی ہے۔ 2011 ء میں ہونے والے انتخابات میں اس جماعت کے 69 امیدوار الیکشن جیتے تھے۔

نکولا اسٹرجن کے بقول یورپی یونین میں شامل رہنے یا نکل جانے کے حوالے سے جون میں ہونے والے ریفرنڈم کے بعد برطانیہ سے خود مختاری کے ریفرنڈم کا مطالبہ ایک مرتبہ پھر سامنے آ سکتا ہے۔ تاہم ان کے بقول اگر برطانیہ یورپی یونین سے الگ ہونے کا فیصلہ کرتا بھی ہے تو اسکاٹ لینڈ یونین کا حصہ رہنے کے لیے ہی ووٹ دے گا۔ اسی سے قبل 2014ء میں اسکاٹ لینڈ میں برطانیہ سے خود مختاری کے لیے کرانے جانے والے ریفرنڈم میں عوام نے علیحدہ ہونے کی تجویز کو مسترد کر دیا تھا۔ اسکاٹ لینڈ میں برطانوی قدامت پسند پارٹی حزب اختلاف کا کردار ادا کرے گی۔ ساتھ ہی ویلز میں لیبر پارٹی کی برتری برقرار ہے جبکہ شمالی آئرلینڈ میں مخلوط علاقائی حکومت بننے کے امکانات ہیں۔