’’برطانوی قانون، انسانی حقوق سے مطابقت نہیں رکھتا‘‘ | معاشرہ | DW | 20.11.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

’’برطانوی قانون، انسانی حقوق سے مطابقت نہیں رکھتا‘‘

برطانیہ میں پولیس اور خفیہ اداروں کے اختیارات میں بے پناہ اضافہ کر دیا گیا ہے۔ ناقدین نے خبردار کیا ہے کہ اختیارات میں اس قدر اضافہ جمہوریت کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔

برطانوی پارلیمان نے اسی ہفتے پولیس اور خفیہ اداروں کو جاسوسی کے لیے نئے اختیارات دے دیے ہیں۔ اسے انویسٹی گیٹری پاورز بل کا نام دیا گیا ہے اور اب اس طرح دیگر کے علاوہ ویب سائٹس کے لیے یہ لازمی قرار دے دیا گیا ہے کہ وہ اپنے صارفین کی براؤزنگ ہسٹری کو کم از کم ایک برس تک محفوظ رکھیں گی۔ اس کے علاہ  کسی قسم کی تحقیقات میں سلامتی کے اداروں کو اس نجی مواد تک رسائی مہیا کی جائے گی۔ گزشتہ پندرہ برسوں کے دوران برطانیہ کے نگرانی کے نظام میں ہونے والی یہ سب سے نمایاں تبدیلی ہے اور اب اس بل کی ملکہ برطانیہ کی جانب سے توثیق ہونا باقی ہے، جو ایک رسمی کارروائی ہے۔

برطانوی وزیراعظم ٹیریزا مے نے مارچ میں یہ بل اُس وقت متعارف کرایا تھا، جب وہ ابھی وزیر داخلہ تھیں۔ انہوں نے اسے دنیا میں مواصلاتی اور آن لائن کمیونیکشنزکے شعبے میں ہونے والی تبدیلیوں کی عکاس دنیا کی معروف ترین قانون سازی قرار دیا ہے۔ امریکی خفیہ ادارے این ایس اے کے سابق ملازم ایڈورڈ سنوڈن نے کہا کہ برطانیہ نے مغربی جمہوریت کی تاریخ میں انتہائی سطح کی نگرانی کو قانونی درجہ دے دیا ہے۔ ان کے بقول،’’یہ اختیارات تو کئی مطلق العنان حکومتوں سے بھی زیادہ ہیں۔‘‘

انسانی حقوق کی تنظیمیں اور ناقدین کے خیال میں سلامتی کے اداروں کو ای میلز، ٹیلیفون کالز، پیغامات اور انٹرنیٹ پر دیگر سرگرمیوں تک رسائی دینا صارفین کے نجی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ کچھ تنظیموں نے یورپی عدالت برائے انصاف سے رجوع کر لیا ہے۔ ان کا موقف ہے کہ یہ قانون سازی انسانی حقوق سے مطابقت نہیں رکھتی۔ یورپی عدالت کا فیصلہ اگلے برس متوقع ہے۔