1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

برطانوی شاہی شادی سے چینی تاجروں کو بھی نفع

چین کے تاجر برطانوی شہزادے ولیم کی شادی سے بھرپور تجارتی منافع کمانے پر نظریں جمائے بیٹھے ہیں۔ پرنس ولیم زمانہء طالب علمی کی دوست کیٹ مڈلٹن کے ساتھ 29 اپریل کو ازدواجی بندھن میں بندھنے والے ہیں۔

default

چین کے مشرقی شہر ژی وو میں زیورات بنانے والی ایک فیکٹری کے مالک ژو منگ وانگ اس سے قبل ولیم کی والدہ آنجہانی شہزادی ڈیانا کو بیچی گئی ہیرے اور یاقوت جڑی 18 تولے کی انگوٹھی کی ایک لاکھ سے زائد نقول فروخت کرچکے ہیں۔ ڈیانا کی یہ انگوٹھی شہزادہ ولیم اپنی ہونے والی جیون ساتھی کو پیش کر چکے ہیں۔

اگرچہ دنیا کے دیگر خطوں کی طرح چین میں اس برطانوی شاہی شادی کا کوئی خاص چرچا نہیں ہے تاہم چینی تاجر اپنی روایتی ہوشیاری کے سبب اس شادی کے نفع بخش پہلو سے بخوبی آشنا ہیں۔

زی جیانگ صوبے کا یہ شہر ژی وو دنیا بھر میں صارفین کے لیے تیار کردہ اشیاء کی سب سے بڑی تھوک کی منڈی کے طور پر جانا جاتا ہے۔ جب سے ولیم اور کیٹ کی شادی کا اعلان ہوا ہے، تب ہی سے یہاں کے کارخانوں میں دونوں کی تصاویر والے چائے کے گلاس و پیالے، شرٹس، قلم، ٹوپیاں غرض یہ کہ ہر قسم کی اشیاء بنا بنا کر دنیا بھر کو بر آمد کی جارہی ہیں۔ آسٹریلیا بھیجی گئی ولیم اور کیٹ کی شادی کی انگوٹھی کی ایک سو نقول، فرانس بھیجے گئے 35 ہزار چھوٹے موٹے یادگاری تحفے اسی کامیاب کاروبار کی چند مثالیں ہیں۔

Flash-Galerie Königliche Hochzeiten

آنجہانی شہزادی ڈیانا اور شہزادہ چارلس کی شادی کا منظر

دنیا بھر میں کاروباری منافع پر گہری نظریں جمائے چینی تاجروں میں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ کامیابی حاصل کرنے کی صلاحیتیں بھی بڑھ رہی ہیں۔ گزشتہ سال جنوبی افریقہ میں منعقدہ فٹ بال کے عالمی کپ کے موقع پر سٹیڈیم میں بجائے جانے والے 90 فیصد باجے، جو ’وو وو زیلا‘ کہلاتے تھے، وہ چینی کارخانوں میں ہی بنے تھے۔ ژی وو شہر کے سُنار ژو منگ وانگ صورتحال کی تصویر کشی کرتے ہوئے کہتے ہیں، ’’ دس سال قبل چین میں عالمگیریت اس طرح محسوس نہیں کی جاتی تھی، انٹرنیٹ بھی اتنا عام نہیں تھا جتنا کہ اب ہے۔‘‘

ژو منگ وانگ بتاتے ہیں کہ جیسے ہی ولیم اور کیٹ نے شادی کرنے کا فیصلہ کیا اور یہ بات انہیں پتہ چلی کہ ولیم اپنی ہونے والی اہلیہ کو وہی انگوٹھی دیں گے جو ڈیانا نے اپنی شادی میں پہنی تھی، ’’ تو میں نے اگلے دن انٹرنیٹ پر اس انگوٹھی کی تصویر شائع کر دی، فوری طور پر برطانیہ سے یہ انگوٹھیاں خریدنے میں دلچسپی کا اظہار ہونے لگا۔‘‘ ژی وو شہر ہی کے ایک اور تاجر فو ژو ژوان بھی کیٹ مڈلٹن کے لباس اور شاہی جوڑے کی تصاویر والی لاکھوں اشیاء بنا کر برآمد کر چکے ہیں۔

اس منافع بخش کاروبار پر بہت خوش ژی وو شہر کے بعض تاجر 29 اپریل کو اس شاہی شادی کی تقریب ٹیلی وژن پر براہ راست دیکھیں گے اور اپنے کارخانوں کے مزدوروں کے ساتھ مل کر ضیافت کا اہتممام کریں گے۔

رپورٹ: شادی خان سیف

ادارت: مقبول ملک

DW.COM