1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

برطانوی سیاسی منظر نامہ : گھمبیر صورت حال

برطانیہ میں ایک ہفتے کے دوران تیسرے سینیئر وزیر نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ مستعفیٰ ہونے والے وزیر برائے ورک اینڈ پنشن James Purnell نے برطانوی وزیر اعظم سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنا عہدے سے دستبردار ہوجائیں۔

default

برطانوی وزیر اعظم گورڈن براؤن

برطانیہ کے ایک اور وزیر James Purnel کا استعفی اور گورڈن براؤن سے وزیر اعظم کے عہدے سے دستبرداری کا مطالبہ ملک میں ہونے والے لوکل اور یورپی یونین کے انتخابات کے موقع پر سامنے آیا۔ ان انتخابات میں گزشتہ 12 سال سے اقتدار میں موجود لیبر پارٹی کو حریف کنزرویٹیو پارٹی کے مقابلے میں بڑی شکست کے خدشات ہیں۔

برطانوی وزیر اعظم کے ترجمان کے مطابق گورڈن براؤن کو اس خبر سے شدید مایوسی ہوئی ہے، تاہم وہ حکومت کی تشکیل نو پر توجہ مرکوز رکھیں گے تاکہ ملک کو درپیش اقتصادی بحران سے نکالا جاسکے اور برطانوی پارلیمنٹ پر عوام کے اعتماد کو دوبارہ بحال کیا جاسکے۔ جو اراکین پارلیمنٹ کے بے جا اخراجات کی رپورٹوں کے باعث شدید متاثر ہوا ہے۔

Hazel Blears

براؤن کابینہ کی خاتون وزیر ہیزل بلیئرز مستعفی ہونے کا اعلان کر چکی ہیں۔

دوسری طرف حزب اختلاف کنزرویٹو پارٹی کی جانب سے بھی فوری طور پر عام انتخابات کرانے کا مطالبہ سامنے آیا ہے۔ اس سلسلے میں کنزرویٹیو پارٹی کے ترجمان George Osborne نے ایک ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ بات سب کو معلوم ہے کہ اس وقت ملک میں ایک مفلوج حکومت موجود ہے۔

گورڈن براؤن نے سابق وزیر اعظم ٹونی بلیئر کی جانب سے قبل از وقت عہدہ چھوڑنے کے بعد سن 2007 وزارت عظمی کا عہدہ سنھبالا تھا۔ لہذا اس بات کے کم امکانات ہیں کہ قبل از وقت عام انتخابات کے مطالبے کے بغیر لیبر پارٹی کا دوسرا وزیراعظم تبدیل ہوسکے۔

Jacqui Smith

پہلی برطانوی خاتون وزیرِ داخلہ جیکی سمتھ، اپنے عہدے سے مستعفی ہو چکی ہیں۔

برطانوی وزیراعظم گورڈن براؤن اپنی کابینہ میں ردوبدل کا ارادہ رکھتے ہیں۔ جس سے اقتدار پر ان کی گرفت مضبوط ہونے کی بجائے حکومت کے عدم استحکام کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔ کیونکہ اس متوقع ردوبدل کے باعث اسی ہفتے وزیر برائے لوکل گورنمنٹ Hazel Blears اور برطانیہ کی پہلی خاتون وزیر داخلہ Jacqui Smith اپنے عہدوں سے استعفیٰ دے چکی ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق وزیر خزانہ Alistair Darling اپنا عہدہ چھوڑنا نہیں چاہتے تاہم برطانوی وزیر اعظم ان کی جگہ اپنے دیرینہ ساتھی Ed Balls کو لانے کے خواہشمند ہیں۔ وزیر خارجہ ڈیوڈ ملی بینڈ بھی اپنا عہدہ چھوڑنے کے لئے رضامند دکھائی نہیں دیتے۔

تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ ایک ہفتے کے دوران تیسرے سینیئر وزیر جیمز پرنل کے استعفے کی بدولت مزید وزراء بھی اپنے عہدے سے علیحدہ ہوسکتے ہیں جس سے وزیر اعظم گورڈن براؤن کے لئے مشکلات میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے۔