1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

برطانوی سٹوڈنٹس ویزا سسٹم ، سختی کا امکان

برطانوی حکومت نے سٹوڈنٹس ویزے جاری کرنے کے حوالے سے سخت قوانین متعارف کرانے کا عندیہ دیا ہے۔ اس کا مقصد ملک میں غیر قانونی امیگرنٹس کی آمد روکنا بتایا گیا ہے۔

default

منگل کو برطانوی وزیر برائے امیگریشن ڈیمائن گرین نے کہا کہ لندن حکومت کی کوشش ہے کہ یہاں پڑھنے کی غرض سے آنے والے طالب علموں کا مناسب چناؤ کیا جائے،’ حکومت چاہتی ہے کہ برطانیہ میں پڑھنے کے لئے آنے والے طالب علموں اعلیٰ اہلیت کے مالک ہوں، جو صرف پڑھنے کی خواہش رکھتے ہوں اور صرف یہاں عارضی طور پر آئیں۔‘

گرین نے کہا کہ برطانوی حکومت سٹوڈنٹس ویزے کے نظام میں اصلاحات لائے گی، جس کے نتیجے میں وہاں پڑھنے کے لئے آنے والے ایسے افراد کی تعداد کم ہو جائے گی، جو اعلیٰ تعلیم کی غرض سے نہیں آتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے انگریزی زبان پر مکمل عبور ہونا ضرروی ہو گا اور دوران تعلیم ملازمت کرنے کے اوقات بھی کم کر دئے جائیں گے۔

سٹوڈنٹس ویزے میں اصلاحات پر گفتگو کرتے ہوئے گرین نے صحافیوں کو بتایا کہ برطانیہ کو یہاں پڑھنے کے لئے آنے والے غیر ملکی قابل طالب علموں کی ضرورت ہے۔ تاہم انہوں نے کہا،’ ہمیں اس حوالے سے چناؤ کرنا پڑے گا کہ یہاں پڑھنے کے لئے کون آ رہا ہے اور وہ کتنا عرصہ یہاں قیام کرے گا۔‘ انہوں نے کہا کہ ڈگری کی سطح سے کم لیول پر پڑھنے والے غیر ملکی طالب علموں میں سے زیادہ تر یہاں رہنے اور کام کرنے کے لئے آتے ہیں۔ گرین نے کہا،’ ہمیں اس عمل کو روکنے کی ضرورت ہے۔‘

Universität Cambridge Flash-Galerie

کیمرج یونیورسٹی کا ایک منظر، برطانیہ میں ہر سال یونیورسٹی میں پڑھنے کے لئے آنے والے غیر ملکی طالب علموں کی تعداد ہزاروں میں ہے

برطانوی حکومت کے اس منصوبے کا مقصد غیر قانونی طور پرامیگرنٹس کو وہاں داخل ہونے سے روکنا ہے۔ برطانیہ میں داخل ہونے کے لئے سٹوڈنٹس ویزا ایک نہایت ہی آسان راستہ تصور کیا جاتا ہے۔ برطانیہ میں ہر سال یونیورسٹی میں پڑھنے کے لئے آنے والے غیر ملکی طالب علموں کی تعداد ہزاروں میں ہے۔ جن میں سے زیادہ تر طالب علموں کا تعلق چین، بھارت اور آئر لینڈ سے ہوتا ہے۔ سن 2009ء میں یہ تعداد ریکارڈ حد تک زیادہ نوٹ کی گی تھی۔

برطانیہ میں سالانہ بنیادوں پر امگریشن حاصل کرنے والوں کی دو تہائی تعداد غیر ملکی سٹوڈنٹس کی ہی ہوتی ہے۔ اگر برطانوی حکومت اس حوالے سے قانون منظور کر لیتی ہے تو پھر برطانیہ میں میں پڑھنے کے غرض سے آنے والے طالب علم ایک مرتبہ اپنی تعلیم ختم کرنے کے بعد وہاں مزید پڑھنے کے لئے نیا ویزا حاصل کرنے پر مجبور ہو جائیں گے۔

رپورٹ: عاطف بلوچ

ادارت: شادی خان سیف

DW.COM