1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

برطانوی رکن پارلیمان جو کوکس ہلاک

برطانوی رکن پارلیمان جو کوکس زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے فوت ہو گئی ہیں۔ برطانوی وزیر اعظم نے اس خاتون سیاستدان پر حملے کے بعد ہی جبرالٹر کا طے شُدہ دورہ اچانک ملتوی کردیا تھا۔

کیمرون جو برطانیہ کے یورپی یونین میں رہنے کے حق میں چل رہی مہم کے سلسلے میں جبرالٹر جاکر ایک ریلی نکالنے کی منصوبہ بندی کیے ہوئے تھے، نے ایک ٹوئٹ پر تحریر کیا، ’’برطانوی ممبر پارلیمان جوُ کوکس پر ہونے والے بہیمانہ حملے کے بعد تمام تر مہم بند کر دی گئی ہے۔ میں آج رات ریلی نکالنے کے لیے جبرالٹر نہیں جاؤں گا۔‘‘

لیبر پارٹی کی خاتون رکن پارلیمان جُو کوکس شمالی شہر لیڈز کے قریب اپنے انتخابی حلقے میں گولیاں لگنے سے شدید زخمی ہو گئی تھیں، جس کے بعد وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے فوت ہو گئیں۔ پولیس کے مطابق ایک ہیلی کاپٹر کے ذریعے اس خاتون کو ہسپتال پہنچایا گیا تھا جبکہ باون سالہ حملہ آور کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

Großbritannien Angriff auf Labour-Politikerin Jo Cox

جُو کوکس شمالی شہر لیڈز کے قریب اپنے انتخابی حلقے میں گولیاں لگنے سے شدید زخمی ہو گئی تھیں

میڈیا اطلاعات کے مطابق ملزم نے حملے سے پہلے ’برطانیہ‘ سب سے پہلے کا نعرہ لگایا تھا۔ اکتالیس سالہ جو کوکس برطانیہ کے یورپی یونین کے رکن رہنے کے حق میں تھیں اور اسی سلسلے میں مہم چلا رہی تھیں۔

ایک ہفتے بعد برطانوی شہری یورپی یونین میں رہنے یا اس کو چھوڑنے سے متعلق کوئی فیصلہ کریں گے۔ اطلاعات کے مطابق جُو کوکس کو شہر برسٹل میں جمعرات کی صبح پہلے گولی کا نشانہ بنایا گیا اور پھر انہیں اتنی بُری طرح زد و کوب کیا گیا تھا۔

کیمرون جمعرات کو اُن 23،000 ووٹروں کو آ‌ئندہ ہفتے یورپی یونین میں رہنے کے بارے میں قائل کرنے جبرالٹر جانا چاہتے تھے جو برطانوی سر زمین کے اس حصے یعنی ’جبرالٹر‘ میں آباد ہیں۔ یورپی عوام آئندہ ہفتے اس بارے میں ریفرنڈم کے ذریعے یہ فیصلہ کریں گے کہ آیا برطانیہ یورپی اتحاد میں شامل رہے یا اس سے خارج ہو جائے۔

Großbritannien Labour-Politikerin Jo Cox

اکتالیس سالہ جو کوکس برطانیہ کے یورپی یونین کے رکن رہنے کے حق میں تھیں اور اسی سلسلے میں مہم چلا رہی تھیں

کیمرون کے جبرالٹر کے دورے کے منصوبے پر اسپین نے ناراضگی کا اظہار کیا تھا۔ ہسپانوی وزیر خارجہ خوسے مانوئیل گارسیا نے کہا تھا کہ ان کا ملک اس دورے کے خلاف ہے۔ میڈرڈ اس علاقے پر ملکیت کا دعوی کرتا ہے جبکہ 1713ء میں ہونے والے ایک معاہدے میں جبرالٹر کا انتظام برطانیہ کو تفویض کیا گیا تھا۔

اگر کیمرون اس دورے کو منسوخ نہ کرتے تو وہ 1986ء کے بعد اس علاقے کا دورہ کرنے والے پہلے برطانوی وزیر اعظم ہوتے۔ اسپین کے وزیر خارجہ خوسے مانوئیل گارسیا نے اس بارے میں اپنے بیان میں کہا، ’’اسپین کا ہمیشہ سے یہ موقف ہے کہ جبرالٹر اُس کی سرزمین کا حصہ ہے اور اس موقف میں برطانیہ کے یورپی یونین میں رہنے یا اخراج کے بارے میں ہونے والے ریفرنڈم میں اکثریتی عوام کے فیصلے سے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔‘‘