1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

برطانوی افواج کے سربراہ کا لیبیا پر نیٹو کی بمباری میں اضافے کا مطالبہ

برطانیہ کی مسلح افواج کے سربراہ نے مطالبہ کیا ہے کہ لیبیا میں باغیوں کی قذافی حکومت کے خلاف مسلسل طویل ہوتی جا رہی مزاحمت کے پیش نظر شمالی افریقہ کی اس ریاست پر نیٹو کی بمباری میں اضافہ کیا جانا چاہیے۔

default

لیبیا میں قذافی کے مخالف باغی اپنی کوششوں میں کامیابیاں حاصل کرتے جا رہے ہیں

برطانوی چیف آف ڈیفنس اسٹاف جنرل ڈیوڈ رچرڈز نے آج اتوار کو برطانوی اخبار سنڈے ٹیلیگراف میں شائع ہونے والے اپنے ایک انٹرویو میں کہا کہ لیبیا میں قذافی کے مخالف باغی اپنی کوششوں میں کامیابیاں حاصل کرتے جا رہے ہیں، لہٰذا نیٹو کو بھی لیبیا کی حکومت پر اپنے دباؤ میں مزید اضافہ کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اس مقصد کے لیے مغربی دفاعی اتحاد کے طیاروں کی لیبیا کے خلاف فضائی کارروائیاں زیادہ کی جانی چاہیئں۔

جنرل رچرڈز کے بقول نیٹو کے رکن ملکوں کو لیبیا میں اُن اقدامات کی زیادہ بھر پور انداز میں تائید و حمایت کرنی چاہیے، جن کے ذریعے قذافی، ان کی انتظامیہ اور سرکاری سکیورٹی دستوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ برطانوی افواج کے سربراہ نے اپنے اس انٹرویو میں یہ بھی کہا کہ نیٹو کو لیبیا میں صرف ان اہداف کو ہی نشانہ نہیں بنانا چاہیے، جو شہری آبادی کے لیے بڑا خطرہ ہیں، مثلا قذافی کی فورسز کے ٹینک اور توپخانہ۔ اس کے برعکس نیٹو کو اپنے عرب اتحادی ملکوں کے تعاون سے کی جانے والی ان کارروائیاں کو زیادہ کامیاب بنانے کے لیے اب ‘زیاد اور تیز رفتار‘ اقدامات کرنا ہوں گے۔

Libyen Gaddafi TV Fernsehauftritt

معمر قذافی

اسی دوران لیبیا میں باغیوں کی قذافی حکومت کے خلاف پندرہ فروری کو شروع کی گئی مزاحمت اب اپنے چوتھے مہینے میں داخل ہو گئی ہے۔ ایک عبوری قومی کونسل کی قیادت میں اپنی مزاحمت جاری رکھنے والے لیبیا کے یہ باغی اب تک نہ صرف بن غازی پر مسلسل قابض ہیں بلکہ کئی ہفتوں تک جاری رہنے والی لڑائی کے بعد اب مصراتہ کا فوجی حوالے سے بہت اہم شہر بھی ان کے کنٹرول میں ہے۔

اس کے علاوہ ان باغیوں کو لیبیا میں کئی دیگر علاقوں پر بھی کنٹرول حاصل ہے اور بین الاقوامی سطح پر انہیں حاصل تائید و حمایت میں بھی مسلسل اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ ابھی جمعے کی شام ہی ان باغیوں کے اعلیٰ رہنماؤں نے واشنگٹن میں وائٹ ہاؤس میں سرکردہ امریکی عہدیداروں سے بھی ملاقات کی تھی۔ ان باغیوں کو اس وقت مالی وسائل کی اشد ضرورت ہے اور بین الاقوامی برادری انہیں یقین دلا چکی ہے کہ عنقریب ہی انہیں اربوں مالیت کے مالی وسائل مہیا کر دیے جائیں گے۔

دریں اثناء لیبیا کے لیے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون کے خصوصی نمائندے عبداللہ الخطیب آج اتوار کو طرابلس پہنچ رہے ہیں، جہاں وہ لیبیا کے وزیر اعظم بغدادی محمودی سے ملاقات کریں گے۔ عبداللہ الخطیب نے طرابلس روانگی سے قبل یونانی دارالحکومت ایتھنز میں کہا کہ ان کے دورہء طرابلس کے دوران اس بارے میں بات چیت ہو گی کہ لیبیا میں شہری ہلاکتوں کو روکنے کی کوشش کرتے ہوئے پہلے فوری طور پر جنگ بندی مذاکرات کو ممکن بنایا جائے اور پھر وہاں کئی ماہ سے جاری مسلح تنازعے کا ایک پر امن سیاسی حل تلاش کیا جائے۔

رپورٹ: عصمت جبیں

ادارت:شامل شمس

DW.COM

ویب لنکس